سری لنکا میں خانہ جنگی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امن مصالحت کار ایرک سولیہم نے کہا کہ سری لنکا کی فوج کی طرف سے عام شہریوں کونشانہ بنانا کے فیصلے سے پریشان ہیں۔ ایمیسٹی انٹرنشینل نے سری لنکا کے عام شہریوں کے کیمپ پر حملے کو’گہناونا‘ قرار دیا ہے۔ سری لنکا اور تامل ٹائیگرز میں پچھلے کئی دنوں سے شدید لڑائی جاری ہے۔ سری لنکا کی حکومت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس کی فوج نے وکاری میں جس کیمپ کو نشانہ بنایا ہے اس میں دو ہزار عام شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔ سری لنکا کی فوج نے دعوی کیا ہے کہ جزیرہ نمائے جافنا میں اس کی نیوی نے تامل باغیوں کی بائیس کشتیوں کو ڈبو دیا ہے ۔فوج نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی دو کشتیاں ڈوب کئی ہیں اور بیس فوجی لاپتہ ہیں۔ حکومت اور تامل باغیوں نے ایک دوسرے پر جنگ شروع کا الزام لگایا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تامل باغیوں نے جافنا جانے والے بہری جہاز کو نشانہ بنایا جو وہاں کھانے پینے کی اشیا لےکر جا رہا تھا۔ مصالحت کار سولیہم نے کہا کہ وکاری میں عام شہریوں کے کیمپ پر حملہ کیا گیا ہے ۔مصالحت کار نے کہا ہے کہ عام شہری حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان جھگڑے کا نشانہ بن رہے ہیں۔ مصالحت کار نے کہا کہ دونوں فریق صرف ڈیرہ ہفتہ پہلے جنیوا میں کیے گئے دعدوں کی پاسداری نہیں کر رہے ہیں جو ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ امر ہے۔ ہزاروں لوگ جنگ والے علاقے سے نکل جانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کو وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ امدادی ادارے کوشش کر رہے ہیں کہ جنگ میں متاثر ہونے والے لوگوں کی مدد کے لیے ایک ایسی محفوظ ٹھکانا قائم کیا جائے جہاں وہ حفاظت میں رہ سکیں لیکن حکومت ا س سلسلے میں کوئی یقین دہانی کرانے سے کترا رہی ہے | اسی بارے میں شمالی سری لنکا میں لڑائی شدید 13 August, 2006 | آس پاس سری لنکا: اٹھائیس فوجی ہلاک10 September, 2006 | آس پاس بحری جھڑپ: 70 باغی ہلاک25 September, 2006 | آس پاس سری لنکا: لڑائی، 129 فوجی ہلاک12 October, 2006 | آس پاس سری لنکا: نیوی کے اڈے پر حملہ18 October, 2006 | آس پاس سری لنکا:مذاکرات میں پیش رفت نہیں29 October, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||