BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 November, 2007, 01:13 GMT 06:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واشنگٹن کانفرنس، بش پُر امید
صدر بش نے اسرائیلی وزیر اعظم اور فلسطینی صدر کو وائٹ ہاؤس میں الگ الگ مدعو کیا
مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کی نئی کوشش کے لیے منگل کو واشنگٹن کے نزدیک انا پولس کی کانفرنس کی تیاری کی جارہی ہے لیکن فلسطینی مصالحت کاروں نے بتایا ہے کہ اسرائیلیوں سے مشترکہ بیان پر ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

ادھر امریکی صدر جارج بش نے اسرائیلی وزیر اعظم اور فلسطینی صدر کو وائٹ ہاؤس میں الگ الگ مدعو کرنے کے بعد کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ یہ معلوم کرنے کے لیے بہت ٹھوس مذاکرات ہونگے کہ آیا صلح ممکن ہے۔

وزیر اعظم ایہود آلمرت اور فلسطینی صدر محمود عباس کے بیانات میں بھی اسی طرح کی بازگشت سنائی دی ۔محمود عباس نے کہا کہ ’ہمیں بہت امیدیں ہیں کہ اس کانفرنس میں مستقل حیثیت کے تمام امور کے بارے میں مذاکرات کی راہ پیدا ہوگی جن کا نتیجہ اسرائیل اور فلسطینی باشندوں کے درمیان معاہدے کی صورت میں نکلے گا۔‘

اناپولس کی اس کانفرنس میں چالیس سے زیادہ ملک شرکت کررہے ہیں جن میں سعودی عرب اور شام بھی شامل ہیں۔

امریکہ کے زیرِ اہتمام اس ہفتے واشنگٹن میں ہونے والی مشرقِ وسطیٰ امن کانفرنس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں سے بات چیت کی ہے تاکہ ان کے اختلافات کم کرائے جاسکیں۔

کونڈولیزا رائس، اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لیونی اور فلسطین کے سابق وزیر اعظم احمد قریا چاہتے ہیں کہ اناپولس کے اس اجلاس سے قبل کیس دستاویز پر اتفاق ہو جائے۔

اجلاس کی میزبانی صدر بش کریں گے جن کا کہنا ہےکہ مشرق وسطی میں قیام امن میں ان کی ذاتی دلچسپی ہے۔

اس سے قبل شام نے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔

شام کے نائب وزیرِ خارجہ فیصل مقداد اس کانفرنس میں جو منگل سے شروع ہو رہی ہے، شامی وفد کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

بات چیت میں یروشلم کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا

شام نے یہ دعوت ان اطلاعات کے بعد قبول کی کہ مذاکرات کے دوران شام اور اسرائیل کے درمیان امن کی بحالی بھی، جس کا مرکز گولان کی پہاڑیاں ہیں، زیرِ بحث آئے گی۔

اس سے قبل شام نے کہا تھا کہ جب تک گولان کی پہاڑیوں کا معاملہ کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جاتا، وہ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا۔

اس اجلاس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کا قیام ہے تاکہ فلسطینی ریاست وجود میں آ سکے۔

جمعہ کو سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھی واشنگٹن میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ اس کانفرنس میں سعودی عرب کی شرکت سے امریکہ کی عرب دنیا کی حمایت کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد