BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 November, 2007, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کینیڈا: پاکستانی ڈریسز کی پذیرائی

کینیڈا میں فیشن شو
لارئیل فیشن وویک میں پاکستانی ملبوسات کی نمائش کی گئی
کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں ہونے والے ’لارئیل فیشن ویک‘ میں کینیڈا اور امریکہ اور یورپ سمیت کئی دیگر ممالک کے مشہور ڈیزائینزروں اور ملبوسات کے خریداروں نے شرکت کی۔

اس سال فیشن شو کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں پاکستانی ڈیزائینر کے ملبوسات کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔کینیڈا و بیرون ملک کے بیشتر خریداروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈیزائنوں میں جمالیاتی پہلو قابل تعریف ہے اور رنگوں کا استعمال بڑی خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔

فیشن شو میں شامل واحد پاکستانی نژاد کینیڈین ڈیزائنر ثانیہ خان نے اپنے ملبوسات کو اس مقام پر پہنچانے کے لیے ڈیزائنرمیں مغرب اور مشرق کےامتزاج سےایک درمیانی راستہ نکالا ہے۔

ثانیہ خان کا تعلق پاکستان کے شہر جہلم سے ہے۔وہ انیس سو ننانوے سے کینیڈا میں مقیم ہیں ۔ان کے ڈیزائن کیے ہوئے شال اور سکارف کینیڈا میں پہلے ہی بہت مقبول ہیں۔


ثانیہ خان نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے ٹیکسٹائیل ڈیزائننگ کے شعبے میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔اس کے علاوہ کینیڈا میں ڈیزایننگ کی تعلیم بھی دیتی رہی ہیں اور مشہور امریکی ٹیلی ویژن فاکس کے لیے بھی ملبوسات تیار کرچکی ہیں۔

ثانیہ خان نے بتایا کہ انہوں نے ملبوسات کا آئیڈیا پاکستان میں عام گھریلو خواتین کے ہاتھوں بننے والےمشہور پائنچے اور پٹی سےمتعارف کرایا ہےجس کو اس شو میں بڑی پذیرائی ملی ہے۔ان ڈیزائینوں کے ذریعے شلوار کو ایک کولیکشن کے طور پر متعارف کرایا ہے۔اور ان ملبوسات میں استعمال کیے گئے رنگوں سے پاکستان کے موسم گرما کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔

ثانیہ کا خیا ل ہے کہ کینیڈا اور امریکہ کے لوگوں میں پاکستانی ملبوسات مزید مقبول ہوسکتے ہیں لیکن یہاں پر موجود پاکستانی سفارتکاروں کو اس میں دلچسپی لینی چاہیے اس سے پاکستان کو معاشی طور پر بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔

ایک فرانسیسی خریدار ڈائن لیپیج کے مطابق پاکستان کے روایتی لباسوں میں سحر انگیزی ہے اور وہ بہت دلکش ہیں لیکن ڈیزائنرز کو چاہیے کہ وہ اپنی اس خاص شناخت کو برقرار رکھیں جو ان کے لباسوں میں جھلکتی ہے۔انہیں چاہیے کہ اس روایتی طرز کو نت نئی ادا بخشیں تاکہ اس انداز سے کہ اس کی اصل روح باقی رہے۔


ٹورانٹو میں منعقدہ اس فیشن ویک کے کوریج کے لیے دنیا بھر سے تقریباً تین سو نامہ نگار و فوٹوگرافر جمع ہوئے تھے۔ ماڈلز، ڈیزائنرز اور میڈیا کی بھیڑ کے علاوہ ایک بڑی تعداد فلم اور ٹی وی کے ایکٹروں کی تھی جو میڈیا کی خاص توجہ کا مرکز بنے رہے۔

لارئیل فیشن ویک ہر سال ٹورانٹو میں منعقد ہوتا ہے ۔اس برس اس شو میں جنوبی ایشیائی پہناوے کی جھلکیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔پانچ روز تک جاری رہنے والے اس فیشن ویک کی ابتداء مشہور ڈیزائنر جو فریش کے ڈیزائن کیے ہوئے ملبوسات سے ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد