ممبئی میں لیکمے فیشن ویک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیشنل سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس ( این سی پی اے ) میں منگل کے روز لیکمے فیشن ویک کا آغاز ڈیزائنر نریندر کمار کے ڈیزائن کیے ہوئے کپڑوں کے ساتھ ہوا۔ سال کا یہ دوسرا شو تیس اکتوبر سے چار نومبر تک جاری رہے گا۔ شو کے آغاز میں مردوں کے لباس کے ساتھ ماڈل اترے جس میں مشہور ماڈل جان ابراہام نے بھی حصہ لیا۔ انہیں ریمپ پر چلتے دیکھ کر ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ان کی گرل فرینڈ بپاشا باسو بھی موجود تھیں۔ اس فیشن شو کی دو خصوصیات ہیں۔ اس میں پہلی مرتبہ ملکی فیشن ڈیزائنرز کے علاوہ غیر ملکی ڈیزائنر فلپ سکورا اور کیلوین ہیریس حصہ لے رہے ہیں۔اب تک انڈیا کے ڈیزائنرز غیر ممالک میں اپنے کپڑوں کے کلکشن کے ساتھ شو میں شریک ہوتے تھے۔ غیر ملکی ڈیزائنرز کی شرکت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب انڈیا کا فیشن بازار انہیں اپنی طرف راغب کر رہا ہے۔خصوصی طور پر جنوبی افریقہ میں مشہور ڈیزائنر لیبل سن گاڈیس کلائیو رینڈیل اور فرانس کی کمپنی لیونارڈ پیرس قابل ذکر ہیں۔ اس شو کی دوسری خصوصیت غیر ملکی ماڈلز بھی ہیں۔ پولینڈ سے کاسیا اور برازیل سے لیوسیانا اس شو میں کیٹ واک کریں گی۔ غیر ملکی ڈیزائنرز اور ماڈل کی شرکت کے ساتھ ہی ڈیزائنرز کی توجہ مقامی فیشن کمپنیوں جیسے ازا، کمیا ، اینسیمبل ، سامسارا کے ساتھ غیر ملکی کمپنیوں براؤنس، ساکس فِفتھ ایونیو، ویلا مودا، ہاروے نیکولز پر ہیں۔ لیکمے فیشن شو میں اس مرتبہ اداکار سلمان خان کی بھابھی اور سہیل خان کی بیوی سیما خان بھی اپنے ڈیزائن کپڑوں کا شو کریں گی۔ پرانے ماڈلز کے ساتھ اس شو میں چند تازہ اور نئے چہرے بھی ریمپ پر اترنے کے انتظار میں ہیں۔ لیکمے فیشن شو میں نریندر کمار کے علاوہ ونیت بہل، سباسچی مکھرجی ، سریلی گوئل، جیمز فریرا، ونڈیل راڈرکس، نندیتا مہتانی اور وکرم فڈنس جیسے نامی ڈریس ڈیزائنر اپنے کپڑوں کا کلکشن پیش کرنے والے ہیں۔ ایسے وقت میں جب ملک اور غیر ممالک کی فیشن انڈسٹری کی نظریں اس فیشن شو پر ہیں، اس کے منتظمین کی نظریں فیشن ڈیزائنرز اور ماڈلز پر ہیں۔ گزشتہ فیشن شو کی طرح وارڈروب مالفنکشن نہ ہو اس لیے منتظمین نے ایک دو نہیں کل اٹھائیس رہنما اصول بنائے ہیں۔ گزشتہ فیشن شو میں بینو سہگل کے ڈیزائن کیے گئے لباس کو ماڈل کیرول گریشیز نے پہنا تھا لیکن وہ لباس نیچے گر گیا۔ یہ تنازعہ اتنا بڑھ گیا کہ ممبئی پولیس کو ماڈل اور منتظمین کے خلاف پولس کیس درج کرنا پڑا۔اس لیئے جو رہنما اصول بنے ہیں ان کے مطابق ہر ماڈل کو پہلے سے یہ بتایا جائے گا کہ وہ کیا پہن رہے ہیں اور اس کی فٹنگ پر دھیان دیا جائے گا اور اس کے باوجود اگر کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو فوری طور پر سٹیج کی بتیاں بجھا دی جائیں گی۔ |
اسی بارے میں بیروت کا دوسرا فیشن ویک11 February, 2005 | آس پاس آپ کا عنوان: فیشن کی نظر سے26 July, 2005 | Captions لیکمے فیشن شو تنازعات کا شکار رہا02 April, 2006 | فن فنکار انڈیا فیشن ویک اختتام کو پہنچا 09 April, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||