حسینائیں اور فیشن کے ارمانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطالوی فیشن ڈیزائنر جارجیو آرمانی دنیا بھر کے فلمی ستاروں اور گلوکاروں میں بھی مقبول ترین ہیں۔ ہالی وڈ اور یورپی ممالک کے بہت سے اداکار اور دنیا بھر کےگلوکار ان کے ملبوسات پہننا اور ان کے فیشن شو میں شامل ہونا باعثِ فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان کی یہ تصویر ان کے دو ہزار چار کے ملبوسات کی نمائش کے بعد لی گئی۔ اس کے لئے عنوان تجویز کریں۔
اپنے عنوانات آپ اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔ سعد خان، ریاض، سعودی عرب رضیہ غنڈوں میں گھر گئی عثمان علی سید، اٹک، پاکستان بھورا راجہ اندر محمد فدا، ٹورنٹو، کینیڈا پوپ جان پال بھی اب انہی کے لباس پہنیں گے ہاشمی، پاکستان: ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ناصر محمود ملک، اسلام آباد: کاش میرے پاس عینک ہوتی اقبال ملک، اسلام آباد: بابا جی اب اٹھو گے کیسے؟ روارا سائیں، حاجی پورہ: عقل نئیں تے موجاں ای موجاں اختر نواز، لاہور: تیرے گوڈوں کے سِوا دنیا میں رکھا کیا ہے کوثر نعیم: بوڑھی گھوڑی لال لگام سوزوکی، جاپان: مصر کا بازار آصف نظیر، کراچی: بوڑھے کا پیار۔۔۔ ایم شریف، بدین، سندھ: بوڑھا ہوگیا ہوں، ذرا سہارا تو دیدو لئیق شوکت، راولپنڈی: حسینوں کے بیچ اکیلا درجی بابا۔۔۔ شاہد، پاک پتن: ضرورت رشتہ علی رضا علوی، اسلام آباد: بوڑھے میاں موج لگ گئی یاسر نقوی، برطانیہ: بابا جی سدھر جائیں عباس علی خان ہمیہ، ہنزہ: تیرے کپڑوں پے کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا ڈاکٹر افضال ملک، راولپنڈی: بابا اور تتلیاں رابعہ ارشد، ناروے: بڑے میاں دیوانے محمد انوار، بارسلونا: کپڑوں کیلئے امریکی امداد لے لیتے!
|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||