BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 October, 2007, 03:38 GMT 08:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشت گردی سے اکٹھے نمٹیں:ملکہ
ملک الزبتھ اور شاہ عبداللہ
تقریباً ایک سو انسانی حقوق اور اسلحہ کی مخالفت کرنے والی تنظیموں نے مرکزی لندن میں شاہی جلوس کے دوران مظاہرہ کیا اور ’شیم آن یُو‘ کے نعرے لگائے۔
ملکہ الزبتھ نےکہا ہے کہ برطانیہ اور سعودی عرب کو دہشت گردوں کے خلاف مِل کر کام کرنا چاہیے جو ’ہمارے شہریوں کے طرزِ زندگی کے لیے خطرہ ہیں‘۔

سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے اپنے اعزاز میں دی گئی ریاستی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے دنیا میں ’جنگ اور تنازعہ کی فضا کا ذکر کیا‘۔ انہوں نے برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے اچھے مسلمان اور قابل قدر برطانوی شہری بننے کے لیے کہا۔

تقریب میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن اور کنزرویٹِو پارٹی کے لیڈر ڈیوڈ کیمرون سمیت ایک سو ستر سے زیادہ مہمانوں نے شرکت کی۔

دوغلاپن
 زمبابوے اور برما کی مذمت کرنا اور سعودی عرب کے بارے میں خاموش رہنا برطانوی وزراء کا دوغلا پن ہے
انسانی حقوق کارکن
ملک الزبتھ نے اپنے بیان میں عرب اسرائیل تنازعہ کے پر امن حل کے لیے ’سعودی عرب اور خاص طور پر شاہ عبداللہ کی ذاتی کوششوں کو سراہا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم خطے میں امن کے لیے آپ کی کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے‘۔

شاہ عبداللہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ برطانوی حکومت ’ہمارے فلسطینی بھائیوں‘ کی تکالیف کے خاتمے کے لیے کوشش کرے گی۔

شاہ عبداللہ کے اس دورے کی برطانیہ میں مخالفت بھی کی گئی ہے جن میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور کچھ خیراتی ادارے بھی شامل ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا انسانی حقوق کے تحفظ کا ریکارڈ اچھا نہیں۔ تقریباً ایک سو انسانی حقوق اور اسلحہ کی مخالفت کرنے والی تنظیموں نے مرکزی لندن میں شاہی جلوس کے دوران مظاہرہ کیا اور ’شیم آن یُو‘ کے نعرے لگائے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن پیٹر ٹیچل نے کہا کہ زمبابوے اور برما کی مذمت کرنا اور سعودی عرب کے بارے میں خاموش رہنا برطانوی وزراء کا دوغلا پن ہے۔

شاہ عبداللہ کے اس بیان نے کہ سعودی عرب نے برطانیہ کو معلومات فراہم کی تھیں جن کی مدد سے سات جولائی کے حملے روکے جا سکتے تھے ان کے دورے کو مزید متنازعہ بنا دیا۔

شاہ عبداللہ کو ظہرانے کے بعد پندھرویں صدی کا قرآن کا ایک نادر نسخہ دکھایا گیا جو ملک وکٹوریہ کو اٹھارہ سو اٹھانوے میں دیا گیا تھا۔ انہیں ایک تلوار بھی دکھائی گئی جو انیس تینتالیس میں شاہ ابن سعود نے شاہ جارج ششم کو دی تھی۔ ملکہ نے بادشاہ کو ’بینک نوٹ‘ نامی اس گھوڑے کی تصاویر بھی دکھائیں جو ایک ایسے گھوڑے کی نسل میں سے ہے جو سعودی عرب سے تحفے میں دیا گیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ شاہ عبداللہ اور دیگر مہمان سعودی عرب سے چھ جہازوں میں ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر پہنچے جہاں سے انہیں چوراسی لیموزین کاروں میں شہر لایا گیا۔ شاہ عبداللہ کے تئیس مشیر بکنگھم محل میں قیام پذیر ہیں جبکہ چار سو دیگر مہمان لندن کے مختلف ہوٹلوں میں ٹھہرے ہیں۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد