BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 October, 2007, 07:57 GMT 12:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مستقل امن چاہیئے: کوریائی رہنما
شمالی کوریا کے کمیونسٹ رہنما کِم جونگ اِل اور جنوبی کوریا کے صدر روہ موہیان
دونوں ممالک کے رہنماؤں نے عارضی صلح بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے پر زور دیا
شمالی اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں نے جزیرہ نما کوریا میں مستقل امن قائم کرنے کے لیے ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

جنوبی کوریا کے صدر روہ موہیان اور ان کے ہم منصب شمالی کوریا کے کمیونسٹ رہنما کِم جونگ اِل نے یہ اعلان پیونگ یانگ میں تین روزہ تاریخی مذاکرات کے بعد کیا۔

انہوں نے بین الاقوامی مذاکرات کی تجویز دی تاکہ کوریائی ممالک کے درمیان عارضی صلح بندی کو باقاعدہ معاہدے کی شکل دی جا سکے۔

شمالی کوریا کے کمیونسٹ رہنما سے روہ مُوہیان کی یہ ملاقات انیس پچاس۔ترپن کی کوریا جنگ کے بعد سے دوسری ایسی ملاقات ہے۔ انیس سو ترپن تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ باضابطہ طور پر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اِل اور جنوبی کوریا کے صدر روہ موہیان نے آٹھ نکاتی اعلامیے پر دستخط کرنے کے بعد ایک دوسرے سے ہاتھ ملائے اور خوشی کو مناننے کے لیے جام بلند کیے۔

کوریائی رہنما
دونوں رہنما گارڈ آف آنر کا معائنہ کر رہے ہیں

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’جنوب اور شمال اس بات پر متفق ہیں کہ وہ عارضی صلح بندی کے نظام کو ختم کریں اور امن کے مستقل نظام کی تعمیر کریں۔‘

اس طرح کے کسی بھی قسم کے مذاکرات میں چین اور امریکہ بھی شامل ہوں گے کیونکہ انہوں نے بھی شمالی کوریا کے ساتھ عارضی صلح بندی پر دستخط کیے تھے۔

جنوبی کوریا نے اس پر دستخط نہیں کیے تھے اور تکینیکی طور پر وہ شمال سے آج بھی حالتِ جنگ میں ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس سے قبل واحد سربراہی اجلاس سن 2000 میں ہوا تھا۔ اس وقت شمالی کوریا کے رہنما نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کا دورہ کرینگے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

پہلے سربراہی اجلاس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنوبی کوریا کے سابق صدر کِم ڈے جنگ کو شمالی کوریا کی جانب ان کی پرامید پالیسی کے لیے امن کے نوبل اعزاز سے نوازا گیا۔

تب سے دونوں ملکوں کے درمیان ریل اور روڈ کے ذریعے سفر کا آغاز ہوا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم ہونے والے متعدد خاندان، مختصر وقفے کے لیے ہی صحیح، آپس میں مل سکے ہیں۔

اسی بارے میں
مذاکرات دوبارہ شروع
18 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد