دیوار کےخلاف عراقیوں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینکڑوں عراقیوں نے بغداد کے شیعہ اور سنی علاقے کو الگ کرنے والی دیوار کی تعمیر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ شولہ اور غزالیہ اضلاع کے باشندوں نے عراقی پرچم لہراتے ہوئے عراق کو منقسم کرنے اور امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کر کے اس دیوار کو منہدم کروائے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس دیوار سے فرقہ وارانہ تشدد میں کمی آئے گی اور شدت پسندوں کی مسلح تحریک کو روکنے میں مدد ملے گی۔اپریل میں کئی عراقیوں نے اس دیوار کی تعمیر کا کام شروع ہونے پر اس کی مخالفت کی تھی ۔ منگل کے مظاہرے میں شولہ اور غزالیہ کے لوگوں نے دیوار کے مکمل شدہ حصے کےسامنے جمع ہونے سےقبل ان دونوں علاقوں کے درمیان مارچ کیا۔ ان مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جس پر شہر کو منقسم کرنے والی اس دیوار کے لیے ’نو‘ لکھا گیا تھا۔مظاہرین نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ دیوار القاعدہ کے منصوبے کے عین مطابق ہے یہ دیوار لوگوں کو آپس میں جدا کر دے گی۔ سنی قبیلے کے رہنماء حسن الطائی نے مطالبہ کیا ہے کہ عراقی حکومت عراقیوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے اور انہیں تقسیم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ پانچ کلومیٹر لمبی یہ دیوار شیعہ آبادی میں گھرے ہوئے سنی اکثریت کے علاقے ادہامیہ کے گرد تعمیر کی جا رہی ہے۔ ادہامیہ کا علاقہ دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقع ہے اور یہاں فرقہ وارانہ تشدد کےکئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ | اسی بارے میں بغداد: شیعہ سنی علاقے کے بیچ دیوار20 April, 2007 | آس پاس ’دیوار سے دوریاں بڑھیں گی‘21 April, 2007 | آس پاس عراقی شیعہ احتجاج کے لیے تیار09 April, 2007 | آس پاس بغداد: شیعہ علاقے میں فوجی آپریشن05 March, 2007 | آس پاس دیوارِ چین کتنی لمبی ہے؟12 February, 2007 | آس پاس بغداد اور سامرہ میں پندرہ ہلاک24 August, 2007 | آس پاس کربلا:مسلح تصادم میں پچاس ہلاک28 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||