’دیوار سے دوریاں بڑھیں گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے ایک سینیئر سنّی سیاستدان نے امریکی فوج کی جانب سے عراقی دارالحکومت بغداد میں شیعہ اور سنی اکثریتی علاقوں کے درمیان دیوار کی تعمیر کی مذمت کی ہے۔ امریکی فوج پانچ کلومیٹر لمبی یہ دیوار شیعہ آبادی میں گھرے ہوئے سنی اکثریت کے علاقے ازہامیہ کے گرد تعمیر کر رہی ہے۔ امریکی ترجمان کے مطابق اس دیوار کی تعمیر کا مقصد’ شہر میں جاری فرقہ وارانہ تشدد پر قابو پانا ہے‘۔ازہامیہ کا علاقہ دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقع ہے اور یہاں فرقہ وارانہ تشدد کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ عراقی پارلیمان میں سب سے بڑے سنّی بلاک کے سربراہ عدنان الدلیمی کے مطابق یہ دیوار مزید دوریوں کو جنم دے گی۔ ایک عراقی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دیوار کی تعمیر کے منصوبے کو تباہی سے تشبیہ دی اور کہا دیوار سے ازہامیہ باقی بغداد سے کٹ جائے گا اور وہاں تشدد مزید فروغ پائے گا۔ ازہامیہ کے باسیوں ک نے بھی اس دیوار کی تعمیر کی شدید محالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دیوار کی تعمیر سے ان کا علاقہ جیل کی صورت اختیار کر جائے گا اور اس سے فرقہواریت کو مزید بڑھاوا ملے گا۔ علاقے کی رہائشی امِ حیدر نے اے ایف پی کو بتایا’ سکیورٹی میں ناکامی اور تشدد میں اضافے کا حل ہمسایوں کے بیچ کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کرنا نہیں ہے۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو بغداد اونچی دیواروں والی بھول بھلیاں بن چکا ہوتا‘۔ امریکی فوج کے مطابق یہ دیوار اس ماہ کے آخر تک مکمل ہو جائے گی اور اس کے بعد عراقی شہری اس بارہ فٹ اونچی دیوار کو ان مقررہ داخلی راستوں سے ہی عبور کر سکیں گے جن پر امریکی اور عراقی فوجی پہرہ دیں گے۔امریکی فوج بغداد میں اس قسم کی دو اور دیواریں بھی تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ | اسی بارے میں بغداد: شیعہ سنی علاقے کے بیچ دیوار20 April, 2007 | آس پاس بغداد: بم دھماکے، دو سو تک ہلاک18 April, 2007 | آس پاس بغداد، چھ دھماکوں میں 160 ہلاک 18 April, 2007 | آس پاس ’حکومت سے علیحدگی کااعلان‘16 April, 2007 | آس پاس عراق: اختلافات شدید، تشدد جاری15 April, 2007 | آس پاس بغداد کے بازارمیں دھماکہ 35 ہلاک15 April, 2007 | آس پاس کربلا: کار بم حملے میں 47 افراد ہلاک14 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||