دعویٰ یا حقیقت! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ملک یورنیم کی آفزودگی کے لیے تین ہزار کے قریب سنٹری فیوجز استعمال کر رہا ہے۔ محمود احمدی نژاد کی طرف سے یہ دعوی جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کی طرف سے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام اپنے اہداف سے بہت پیچھے ہے۔ تین ہزار سنٹری فیوجز کی تنصیب ایران کے جوہری پروگرام کا ایک درمیانی مدت کا ہدف تھا۔ ایرانی رہنماؤں کے بیانات کے مطابق یہ ہدف گزشتہ مارچ میں حاصل کیا جانا تھا۔ لیکن اس کے بعد ایرانی رہنماؤں نے یہ ہدف اپریل کے مہینے میں حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی صدر کی طرف سے یہ ہدف حاصل کرنے کادعویٰ کیا گیا ہے ایران اپنے جوہری پروگرام کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ صدر محمود احمدی نژاد کے مخالفین آئی اے ای اے کے بیان کو ایرانی حکومت کی کمزوری قرار دے رہے تھے۔ محمود احمدی نژاد کا تازہ بیان اپنے مخالفین کو خاموش کرنے اور اپنے حامیوں کو یقین دلانے کے لیے دیا گیا کہ ایران کی حکومت مغربی ممالک اور امریکہ کے دباؤ میں نہیں آئی ہے۔ اسی بیان میں انہوں نے سابق صدر محمد خاتمی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ صدر احمدی نژاد کا یہ دعوی شائد حقیقت پر مبنی نہ ہو اور صرف اپنے سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’ایران نے اہم ایٹمی ہدف حاصل کر لیا‘02 September, 2007 | آس پاس شکوک کاخاتمہ: تجاویزایران کوقبول31 August, 2007 | آس پاس جوہری ادارے کے تحفظات دُور:ایران28 August, 2007 | آس پاس ’مزید پابندیوں کا وقت آگیا ہے‘23 May, 2007 | آس پاس عراق: ایرانی باشندے رہا ہوگئے29 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||