انڈین مسلمانوں کی اسرائیلی ضرورت؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین مسلم رہنماؤں پر مبنی ایک وفد کا دورۂ اسرائیل جمعرات کو ختم ہوا اور سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اسرائیل کو یہ دورہ کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ دورے کے خاتمے پر انڈین مسلم رہنماؤں اور اسرائیل کے چیف رابی نے ایک بیان پر دستخط بھی کیے جس میں کہا گیا ہے کہ ’حضرت ابراہیم کی ایک ہی نسل کی حیثیت سے عوام الناس کی طرف ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اخلاق، انصاف اور ہمدری کے ساتھ پیش آئیں اور امن کی راہ پر چلیں۔‘ کیا اس طرح کا بیان جاری کرنے کے لیے اسرائیل کو پڑوسی ممالک میں مسلم رہنماؤں کی کمی تھی؟ کیا عرب ممالک کے مسلم حضرت ابراہیم کی نسل سے نہیں ہیں؟ گزشتہ چند برسوں کے دوران یہودی ریاست نے مسلم ممالک، بالخصوص انڈیا کے پڑوس اور انڈونیشیا، میں مقبولیت کے لیے کافی کوششیں کی ہے۔ کچھ حد تک اسرائیلی رہنما مسلم ملکوں اور اسرائیل کے درمیان گہری خلیج کو عبور میں کامیاب رہے ہیں۔ یہی کام پہلے اسرائیل کو خفیہ طور پر کرنا پڑتا تھا۔
انڈین مسلمانوں کے اس دورے کے منتظمین کے خیالات سے ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کے بارے میں مسلم آبادیوں میں اچھے تاثرات قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے تاکہ اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب ہوسکے۔ انڈین وفد کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے چیف رابی یونا متیزگر نے کہا کہ ’ایک سو اسی ملین آبادی والے انڈین مسلمان دنیا میں دوسری بڑی مسلم آبادی ہیں جن کا (دوسری برادریوں) کے ساتھ پرامن طور پر رہنے کا ریکاڈر ہے اور وہ یہودیوں اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے درمیان خلیج کو پورا کرسکتے ہیں جس سے امن کو تقویت ملے گی اور دونوں مذاہب کے درمیان ڈائیلاگ کا عمل شروع ہوسکے گا۔‘ دوسری جانب فلسطینی بھی انڈیا سے مشرق وسطیٰ امن عمل میں اہم کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کو بھی احساس ہے کہ انڈیا کی حکومت شاید اس کی مدد نہ کرسکے لیکن امن کی راہ میں انڈین مسلمان مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ تو کیا انڈین مسلمانوں کے اس دورے سے اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب ہوا ہے؟ ایک اسرائیلی سفارتکار نے مجھے بتایا کہ ’کم سے کم اس دورے سے برصغیر کی میڈیا میں اسرائیل اس معاملے کو اٹھانے میں کامیاب رہا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ اسرائیل اپنی سرزمین پر مسلمانوں کو مدعو کرنے کے خلاف نہیں ہے۔‘ اسرائیلی سفارتکار کا کہنا تھا: ’ہم مسلمانوں کے خلاف نہیں، جیسا کہ اس مذہب کے بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس دورے سے یہ بات سامنے آئی ہے۔‘ انڈین مسلمانوں نے اس وقت خود اس معاملے پر ایک تنازعہ کھڑا کردیا تھا جب وفد کے رہنما مولانا جمیل الیاسی نے اسرائیل کا دورہ کرنے کا فیصلہ ترک کردیا تھا۔ انڈین میڈیا نے بھی وفد کے اراکین کو ’ناقابل اعتبار تنظیموں کا غیرمؤثر رہنما‘ قرار دیا تھا۔ جو مسلم رہنما اسرائیل کے دورے پر آئے انہوں نے بڑے بڑے بیانات دیے اور خود کو پرعزم ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ساتھ ساتھ فکرمند بھی تھے کہ وطن واپسی پر ان کے ساتھ عوامی سلوک کیا ہوگا۔ | اسی بارے میں اسرائیل اور بھارت کا دفاعی تعاون14 August, 2007 | آس پاس انڈین مسلم وفد کا دورۂ اسرائیل19 August, 2007 | آس پاس ہندوستان میں یہودی18 August, 2004 | انڈیا ’عدم تشدد سے مسئلہ فلسطین کا حل ممکن ہے‘24 August, 2004 | انڈیا اسرائیلی فوجی وفد کشمیر کے دورے پر14 June, 2007 | انڈیا بھارت امریکہ جوہری تعاون 21 July, 2007 | آس پاس اسرائیلی خاتون پولیس حراست میں23 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||