BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 August, 2004, 15:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہندوستان میں یہودی

بینئی میناشی قبیلے کے صرف پانچ ہزار لوگوں نے یہودی مذہب اختیار کیا ہے
بینئی میناشی قبیلے کے صرف پانچ ہزار لوگوں نے یہودی مذہب اختیار کیا ہے
ہندوستان میں شمال مشرق ریاست منی پور میں ایک مخصوص قبیلے بینئی میناشی کا دعویٰ ہے کہ وہ نسلا یہودی ہیں اسی لیۓ انہیں اسرئیل میں بسنے کا حق ملنا چاہیۓ۔ اس سلسلے میں اسرائیل کےمذہبی رہنما کا ایک وفد بھی ہندوستان آیا ہوا ہے تاکہ وہ اس بات کی تصدیق کر سکے کہ ریاست منی پور کے دارالحکومت اِمپھال میں بسنے والے بینئی میناشی کے اس دعوے میں کتنی سچائی ہے۔

امپھال میں اس قبیلے کےسردار تھنکو باؤ اوہیال ہینگ شنگ کا کہنا ہے کہ صحرائے سینائي میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جو دس قبیلے بھٹک کر ایک دوسرے سے بچھڑ گۓ تھے بینئی میناشی قبیلہ انہیں میں سے ایک ہے۔ مسٹر باؤ کا یہ بھی کہنا ہے کہ دراصل حضرت یوسف علیہ السلام کے ایک بیٹے مینا شی کے نام سے ہی ان کے قبیلے کا نام منسوب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سینکڑوں برس سے وہ اس بات سے لا علم تھے کہ وہ یہودیوں کا ہی ایک گمشدہ قبیلہ ہیں، 27 برس قبل جب پہلی بار انجیل کا ان کی مادری زبان میں ترجمہ کیا گیا تو اس کے مطالعے سے انہیں معلوم ہوا کہ یہودیوں کی کہانیاں، عادات و اطوار اور انکی تہذیب بالکل انہیں جیسی ہیں۔ اس دریافت کے بعد ہی انہیں معلوم پڑا کہ وہ یہودیوں کا ہی ایک گمشدہ قبیلہ ہیں۔

ہفتےکے روز یہودیوں کی عبادت یا آرام کا دن ہوتا ہے۔ اسی روز امپھال کے سِناگوگ میں لوگ جمع ہوتے ہیں جہاں توریت کی تلاوت کی جاتی ہے۔ امپھال میں بنئی میناشی قبیلے کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن اس میں سے تقریبا پانچ ہزار افراد نے ہی یہودی مذہب اختیار کیا ہے اور باقی زیادہ تر عیسائی ہیں۔

مسٹر باؤ کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں بھی ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوا ہے لیکن انکا حقیقی وطن تو اسرائیل ہی ہے، اسرائیل میں امیشو نامی ایک تنظیم جو یہودیوں کو اسرائیل آنے میں مدد کرتی ہے اس کے سر براہ مائکل فرینڈو نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ میناشی یہودیوں کا ہی ایک گمشدہ قبیلہ ہے۔ اس میں سے تقریبا آٹھ سو افراد پہلے ہی اسرائیل پہنچ چکے ہیں جبکہ بقیہ ہجرت کے خواہش مند ہیں۔

انہو ں نے بتایا کہ گزشتہ برس اسرائیل کے داخلی وزیر نے بنئی میناشی قبیلے کی اسرائیل میں آنے کی مخالفت کی تھی لیکن انہیں امید ہے کہ جب ربائی مذہبی رہنماؤں کی جانب سے اس بات کی تصدیق کر دی جائےگي کہ وہ قبیلہ بھی یہودیوں کا ہی حصہ ہے تو پھر وزیر کو اجازت دینی ہی پڑیگی۔

فی الوقت اسرائیل میں ربائی رہنما جہاں اس کے متعلق حتمی فیصلہ کر نے کے بارے میں غور وفکر کر رہے ہیں وہیں منی پور کے یہودی اجازت نامے کے منتظر ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد