 | | | حتمی معاہدے میں کئی مراحل طے کرنا باقی ہیں |
امریکہ اور بھارت نے کہا کہ انہوں نے جوہری شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے کیئے جانے والے مذاکرات میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ بھارت امریکہ سے جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری ایندھن حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ امریکہ نے بھارت کو جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری ایندھن فراہم کرنے پر تیس سال قبل اس وقت پابندی لگا دی تھی جب بھارت نے پہلا جوہری دھماکہ کیا تھا۔ بھارت اور امریکہ میں جوہری شعبے میں تعاون کا اصولی معاہدہ صدر بش کے بھارت کے دورے کے دوران کیا گیا تھا۔ تاہم امریکہ کی طرف سے بھارت کو استعمال شدہ جوہری ایندھن کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کی اجازت دینے میں ہچکچاہٹ سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ جوہری ایندھن کو دوبارہ قابل استعمال بنانا جوہری ہتھیار بنانے کا ایک مرحلہ تصور کیا جاتا ہے۔ بھارت نے جوہری عدم پھلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کیئے ہیں اور اسی لیے امریکی انتظامیہ کے لیے بھارت سے جوہری شعبے میں تعاون کے کسی بھی معاہدے پر امریکی کانگریس سے منظوری حاصل کیا جانا ضروری ہو گا۔ بھارت اورامریکہ کے درمیان جوہری معاہدے کی صورت میں بھارت کے چودہ سویلین نیوکلیئر تنصیبات بین الاقوامی نگرانیوں کے عوض امریکہ سے ایندھن اور ٹیکنالوجی حاصل کر سکیں گے تاہم آٹھ دفاعی نوعیت کی تنصیبات اس سے مستثنیٰ رہیں گی۔ |