ڈھاکہ سمیت کئی شہروں میں کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کی حکومت نے، جسے فوجی حمایت حاصل ہے، طالب علموں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر دارالحکومت ڈھاکہ سمیت کئی شہروں میں غیر معینہ عرصے کے لیے کرفیو لگا دیا ہے۔ بدھ کو طالب علموں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ملک کی کئی یونیورسٹیوں تک پھیل گئیں جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شحص ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ حکومت نے لوگوں سے قانون نہ توڑنے کی اور امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔ چھ ماہ قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومت کو درپیش یہ سب سے سنگین چیلنج ہے۔ طالب علموں اور پولیس کے درمیان کشیدگی پیر کو دارالحکومت ڈھاکہ میں شروع ہوئی اور اب شمال میں سلہٹ اور جنوبی شہر چٹاگانگ تک پھیل گئی ہے۔ ڈھاکہ کے علاوہ ملک کے پانچ دیگر بڑے شہروں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ان چھ شہروں میں تمام یونیورسٹیاں اور کالج بند کر دیے گئے ہیں اور طالب علموں سے بدھ کی شام آٹھ بجے تک کیمپس خالی کرنے کو کہا گیا ہے۔
ڈھاکہ میں بی بی سی کے قادر کالول کا کہنا ہے کہ جھگیوں میں رہنے والوں، دکانداروں، رکشے چلانے والوں اور تاجروں نے بھی پر تشدد احتجاجوں میں طالب علموں کا ساتھ دیا۔ پولیس نے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی اور آنسو گیس چلائی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ احتجاج مزید پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں اور ایک مقبول قومی تحریک کی شکل اختیار کر رہے ہیں جس کا مقصد ملک میں جمہوریت کی فوری بحالی ہے۔ حکام کے مطابق شمال مغربی شہر راجشاہی میں ہونے والے فساد میں ایک رکشا چلانے والا ہلاک ہو گیا۔ پولیس پر آنسو گیس کے بلا امتیاز استعمال اور منگل کو طالبات کو مظاہروں میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ان کے ہاسٹل پر فائرنگ کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے جنوری میں اقتدار سنبھالا تھا اور تب سے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے بعد اگلے سال کے آخر تک انتخابات کرائے جائیں گے۔
فوج کی طرف سے یونیورسٹی کیمپس خالی کیے جانے کے باوجود حالات میں بہتری نہیں آئی ہے۔ طالب علموں کا مطالبہ ہے کہ فوج کو ملک کے تمام تعلیمی اداروں سے نکالا جائے اور جن فوجیوں نے طلبا کے ساتھ بد سلوکی کی ہے انہیں سزا دی جائے۔ طلبا نے یہ بھی مطابہ کیا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل معین الاحمد ان سے معافی مانگیں اور تشدد میں زخمی ہونے والوں کو تبی اور مالی امداد دی جائے۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش: الیکشن 18 ماہ بعد05 April, 2007 | آس پاس حسینہ واجد ڈھاکہ پہنچ گئیں07 May, 2007 | آس پاس شیخ حسینہ کاحکومت پرمقدمہ29 July, 2007 | آس پاس بنگلہ دیش کے مسائل15 August, 2007 | آس پاس ڈھاکہ:طلباء اور پولیس کی جھڑپیں21 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||