تورا بوڑا میں امریکی آپریشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اور افغان فوجیں القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاک افغان سرحد کے قریب تورا بوڑا کے علاقے میں فوجی آپریشن کر رہی ہیں۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران طالبان اور القاعدہ کے کئی کارکن مارے گئے ہیں تاہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔ ننگرہار صوبے کے گورنر کے ترجمان نور آغا زواک کے مطابق تورا بوڑا میں آپریشن ’کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد نہیں بتا سکتے۔ ننگرہار میں حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کئی افغان اور غیرملکی شدت پسند موجود ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ دو دن کی لڑائی کے دوران لگ بھگ ڈھائی سو خاندان علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ امریکی فوج نے بتایا کہ ’القاعدہ اور دوسرے دہشت ناک انتہاپسند جنجگو‘ اس لڑائی میں ملوث ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں پریسیژن یعنی ٹھیک نشانے پر مار کرنے والا اسلحہ استعمال کیے جارہے ہیں۔ امریکی فوج کے ایک بیان کے مطابق تازہ لڑائی میں سویلین ہلاکتوں کی کوئی مصدقہ رپورٹ نہیں ہے۔ اس سے قبل بعض رپورٹوں میں سویلین ہلاکتوں کی بات کی گئی تھی۔ امریکی فوج کی ترجمان ونیسا باؤمین کے مطابق ’معتبر انٹیلیجنس سے معلوم ہوا تھا کہ پہاڑی علاقے میں دشمن جنگجو مورچہ بنائے ہوئے ہیں۔‘ اسی دوران پاکستان نے اپنی فوج کو سرحد پر تعینات کیا ہے تا کہ اس آپریشن سے فرار ہونے والے شدت پسند پاکستان میں داخل نہ ہوں۔ پاکستان کے ایک سکیورٹی اہلکار نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ افغانستان میں موجود اتحادی افواج سے تعاون کے بعد گزشتہ تین دن سے پاک افغان سرحد پر سکیورٹی سخت کردی گئی۔ تورا بوڑا سن 2001 سے اس لیے سرخیوں میں رہا ہے کہ وہاں اسامہ بن لادن کو پکڑنے کی ایک امریکی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||