ترک پارلیمان نے حلف اٹھا لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی میں نئی پارلیمان نے حلف اٹھا لیا ہے جس میں کرد موقف کے حامی بیس اراکینِ اسمبلی بھی شامل ہیں۔ حلف برداری کی تقریب کئی گھنٹے جاری رہی جس میں نو منتخب اراکین نے متحد اور خودمختار سکیولر جمہوریہ ترکی سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔ یہ انیس سو اکانوے کے بعد پہلا موقع ہے کہ کرد اراکینِ اسمبلی پارلیمان میں آئے ہیں۔ کرد جماعت ڈیموکریٹک سوسائٹی پارٹی (ڈی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے اراکینِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمان کو بات چیت کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ کرد رہنما احمد کرد نے ٹرکش ٹی وی کو بتایا کہ وہ مفاہمت اور ترک۔کرد تنازعے کا ایک پر امن حل چاہتے ہیں۔ اس تنازعے کے نتیجے میں سنہ 1983 سے اب تک تیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ڈی ٹی پی کے ارکینِ اسمبلی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ موجودہ نظام میں بہت سی خامیاں ہیں تاہم وہ اسی میں رہتے ہوئے کردوں کے حقوق کے لیے کام کریں گے۔
ایک رکن اسمبلی نسیم گر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ہم موجودہ قوانین پر کڑی تنقید کرتے ہیں کیونکہ یہ بالکل غیر جمہوری ہیں لیکن ہماری حکمتِ عملی یہ ہے کہ جب تک ہم انہیں تبدیل کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے ہم ان کی پاسداری کریں گے‘۔ ترکی میں نئی پارلیمان کا انتخاب گزشتہ ماہ ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے جس میں اسلام کی جانب جھکاؤ رکھنے والی جماعت’اے کے پی‘ نے ایوان میں اپنی پوزیشن مضبوط کی تھی۔ اب اس پارلیمان کا اولین اہم ترین کام نئے صدر کا انتخاب ہے۔ یاد رہے کہ اے کے پی کے گزشتہ صدارتی امیدوار ترکی کے وزیرِ خارجہ عبداللہ گل کی نامزدگی سے ملک میں سیاسی بحران شروع ہوگیا تھا اور فوج نے مداخلت کی دھمکی بھی تھی۔ | اسی بارے میں ترکی : حکمران جماعت کی کامیابی 22 July, 2007 | آس پاس ترکی: سیاسی تاریخ کے اہم انتخابات22 July, 2007 | آس پاس صدر کےانتخاب میں تبدیلی کی تجویز08 May, 2007 | آس پاس ترکی صدارتی انتخابات پھر ناکام 06 May, 2007 | آس پاس ترکی: جلد انتخابات کرانے کی پیشکش02 May, 2007 | آس پاس ترکی صدارتی انتخابات کالعدم01 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||