غربِ اردن کا میامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماضرہ شرقیہ ایک عام فلسطینی گاؤں نہیں ہے۔ قیمتی جیپیں اور کاریں گاؤں کی صاف ستھری گلیوں میں جا بجا گھومتی نظر آتی ہے جبکہ گاؤں کی عمارتوں سے ان میں رہنے والوں کی امارت ٹپک رہی ہے۔ جہاں عام فلسطینی گھر بھٹوں میں پکے ہوئے بلاکوں سے بنے ہوتے ہیں جبکہ یہاں چار چار منزلہ رہائش گاہوں میں سے کئی ایک کی بیرونی دیواریں سنگِ مرمر سے مزین ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غربِ اردن میں بسنے والے گھرانوں میں سے ایک تہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن مضرہ شرقیہ پر یہ تحقیق صادق نہیں آتی۔ کئی فلسطینی اس گاؤں میں بسنے والوں کی دولت اور گرمیوں کے موسم میں یہاں ہونے والی بے شمار پارٹیوں کی وجہ سے اسے غربِ اردن کا میامی بھی کہتے ہیں۔ لیکن مضرہ شرقیہ میں پائی جانے والی دولت یہاں پیدا نہیں ہوئی بلکہ بہتر زندگی کی تلاش میں اپنا گھر بار چھوڑنے والے فلسطینی تارکین وطن کی محنت کا ثمر ہے۔
گرمیوں میں بیرون ملک مقیم زیادہ تر افراد اپنے آبائی گاؤں لوٹ آتے ہیں جہاں انہوں نے خوبصورت گھر بنا رکھے ہیں۔ چھیالیس سالہ احمد یعقوب انہیں میں سے ایک ہیں۔ وہ چھ بچوں کے باپ ہیں اور وہ تیس سال پہلے اس گاؤں سے چلے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قبضے کی وجہ سے گاؤں میں نوجوانوں کے لیے اچھی زندگی کے بہت محدود مواقع موجود تھے۔ احمد یعقوب پہلے پورٹو ریکو گئے، پھر وہاں سے شکاگو چلے گئے۔ بعد میں وہ پورٹو ریکو واپس آ گئے جہاں اب ان کا کپڑے کا ایک کامیاب کاروبار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف سے اکثر ان کی وطن واپسی میں رکاوٹوں کے باوجود وہ ہر سال موسمِ گرما میں اپنے گاؤں واپس آتے ہیں۔ ’میں اپنے بچوں کو یہاں لانا چاہتا ہوں تاکہ وہ عربی زبان سیکھیں اور اپنے رسم و رواج سے واقف ہو سکیں۔ کیونکہ وہ پورٹو ریکو میں اس طرح نہیں سیکھ سکتے جیسے وہ گاؤں میں سیکھتے ہیں۔‘ اسی کی دہائی کے آغاز تک ماضرہ شرقیہ بھی غربِ اردن کے دیگر دیہات کی طرح ہی دکھائی دیتا تھا۔ یہاں زیادہ تر دو منزلہ مکانات تھے اور گاؤں کی سڑکیں بھی کچی تھیں۔ لیکن جب بیرونِ ملک مقیم فلسطینوں نے اپنے پاؤں مضبوط کرنا شروع کیے تو گاؤں میں پیسہ آنا شروع ہو گیا اور یہاں جا بجا خوبصورت گھر نظر آنا شروع ہو گئے۔ اس کی وجہ سے، بقول احمد یعقوب، ’نیا گاؤں‘ اور ’پرانا گاؤں‘ وجود میں آ گیا۔ مسٹر یعقوب کا کہنا ہے کہ وہ اس گاؤں میں پیدا ہونے اور پلنے بڑھنے کے باوجود خود کو اجنبی محسوس کرتے ہیں۔ ’گاؤں کے رہنے والے بعض لوگ ہمیں غیر ملکی سمجھتے ہیں۔ میں خود کو یہاں رہ جانے والے لوگوں سے گھلتا ملتا محسوس نہیں کرتا۔‘ گرمیوں میں تارکینِ وطن کی گاؤں میں واپسی سے یہاں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آ جاتی ہے۔ کئی تارکین وطن یہاں آ کر شادیاں کرتے ہیں اور اسی وجہ سے یہاں گرمیوں میں روزانہ اوسطاً چار شادیاں ہوتی ہیں۔ یعقوب کے بیٹے، پچیس سالہ جمعہ، کا کہنا ہے کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ وہ صبح چار بجے سے پہلے سو جائے۔ لیکن سردیوں کے موسم میں گاؤں میں نسبتاً ہو کا عالم ہوتا ہے۔ میوزک شاپ کے مالک عبدالحکیم کے مطابق موسم بہت سرد ہوتا ہے یہاں پر رہنے والے زیادہ تر لوگ بوریت محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ گاؤں کے پول ہال میں گاؤں کے کچھ نوجوان ورزش کر رہے ہیں۔ یہاں موجود سب نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ امریکہ چلے جائیں گے۔ وجہ پوچھنے پر ان میں سے ایک نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا کہ ان کا مقصد مزید پیسہ کمانا ہے۔ اس گاؤں کا مسئلہ یہی ہے۔ یہاں سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر تارکین وطن کا کہنا ہے کہ وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں لیکن اسرائیلی قبضے اور مواقع کی کمی نے اس کو مشکل بنا دیا ہے۔ لیکن یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ ان کے باہر رہنے کی وجہ سے ماضرہ شرقیہ میں پیسہ کی ریل پیل برقرار ہے۔ | اسی بارے میں ناروے کی وزیر کا اسرائیلی بائیکاٹ06 January, 2006 | آس پاس رشوت سے فلسطین کے سودے کا منصوبہ23 September, 2004 | آس پاس ’نفرت کی دیوار یا محبت کا پل‘27 August, 2004 | آس پاس اپنا قفس اپنے ہاتھوں04 July, 2004 | آس پاس ’اسرائیل قوانین کا احترام کرے‘11 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||