ناروے کی وزیر کا اسرائیلی بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ناروے کی مالیات کی وزیر کرسٹائن ہلورسین نے اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم کی حمایت کی ہے۔ یہ مہم کرسٹائن کی سوشلسٹ لیفٹ پارٹی اس مہینے شروع کر رہی ہے۔ انہوں نے مقامی اخبار میں چھپنے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’بہت عرصے پہلے سے ہی میں نے اسرائیلی اشیاء خریدنا چھوڑ دی ہیں‘۔ گزشتہ ماہ مرکزی ناروے کی میونسپلٹی سوئر ٹرونڈیلاگ نے اسرائیلی اشیاء اور سہولیات کے بائیکاٹ کی مہم کا اعلان کیا تھا۔ ناروے کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس طرح کا بائیکاٹ حکومت کی پالیسی نہیں ہے۔ کرسٹائن نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ ان کی جماعت کا اپنا نکتۂ نظر ہے اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے یہ انٹرویو اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کے دماغ کی نس پھٹنے سے پہلے دیا تھا۔ کرسٹائن کی جماعت ستمبر میں ہونے والے انتخابات کے بعد تین جماعتوں کے اتحاد سے بننے والی حکومت میں ایک اقلیتی جماعت ہے۔ | اسی بارے میں ناروے کی’سویں سالگرہ‘07 June, 2005 | آس پاس ’ہوٹل میں عریاں فلمیں بند کرو‘27 July, 2004 | آس پاس ملا کریکر الزامات سے بری15 June, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||