ناروے کی’سویں سالگرہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناروے سویڈن سے اپنی آزادی کی صد سالہ سالگرہ منا رہا ہے۔ 1905 میں ناروے کی پارلیمان کے اس یکطرفہ فیصلے کے بعد جس کے تحت سویڈن کے شاہ کی حکومت کاخاتمہ کر دیا گیا تھا، دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ لیکن ناروے میں ایک ریفرنڈم کے بعد سویڈن اور ناروے کے اکٹھا یا الگ الگ رہنے کا فیصلہ پُرامن طور پر ہوگیا۔ ناروے کی آزادی کی سویں سالگرہ کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ جس طرح سویڈن اور ناروے نے آپس میں معاملات طے کیے آج کی دنیا کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ انہوں نے سویڈن کے اخبار کو بتایا کہ یہ امن کے لیے کام کرنے والوں کے لیے ولولہ انگیز موقع ہے کیونکہ یہ کسی بھی تنازعہ میں دو فریقین کی سمجھوتہ کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ 1905 میں ناروے کسی حد تک آزاد تھا لیکن بادشاہ اور ملک کے پالیسی ساز بہرحال سویڈن میں ہی بیٹھتے تھے۔ اسی لیے جب ناروے کی پارلیمان نے بادشاہ کو نظرانداز کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا توسویڈن میں کچھ طاقتوں نے ناروے پر حملے کی تجویز بھی دی تھی۔ اس کے جواب میں ناروے نے بھی سویڈن کے ساتھ اپنی سرحد پر فوجوں کو مضبوط کرنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن باوجود اس کے کہ دونوں ملکوں میں قومیت کے جذبات عروج پر تھے، فتح جمہوریت کی ہوئی۔ بات چیت کے بعد دونوں ممالک اس بات پر متفق ہو گئے کہ ناروے میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے لوگوں سے پوچھا جائے کہ وہ مکمل آزادی چاہتے ہیں یا نہیں۔ آج سو سال بعد دونوں ممالک کے درمیان صرف اس بات پر جھگڑا ہوتا ہے کہ فٹبال کے میدان میں کون جیتےگایا یورووِژن کے گانوں کے مقابلے میں کس ملک کی ٹیم جیتے گی کیونکہ یہ مقابلے بہرحال ایک ہی ٹیم جیت سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||