حنیف کے خلاف درخواست واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کی پولیس نے لندن اور گلاسگو ميں ناکام دہشتگردانہ حملوں کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے ہندوستانی ڈاکٹر محمد حنیف کی حراست کی مدت بڑھانے کی درخواست واپس لے لی ہے۔ اس قدم کے بعد آسٹریلیا کی پولیس کے پاس پوچھ گچھ کرنے کے لیے اب محض آدھا دن بچا ہے جس میں یا تو انہیں محمد حنیف کے خلاف الزامات طے کرنے ہوں گے یا پھر انہیں رہا کرنا ہوگا۔ آسٹریلیا کے ایک اخبار کو کچھ سرکاری دستاویزات موصول ہوئی ہيں جن کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس اب تک محمد حنیف پر الزامات عائد کرنے کے لیے ثبوت جمع نہیں کر سکی ہے۔ جمعہ کو آسٹریلیا کی عدالت یہ فیصلہ کرنے والی تھی کہ محمد حنیف کی حراست کی میعاد بڑھائی جائے یا نہیں۔ ستائیس سالہ محمد حنیف کو دو جولائی کو برسبن کے ہوائی اڈے پر حراست ميں لیا گیا تھا۔اس وقت محمد حنیف آسٹریلیا سے ہندوستان آنے والے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق محمد حنیف گیارہ روز سے حراست میں ہیں لیکن گزشتہ ایک ہفتے سے ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے قانونی اور سماجی تنظیموں نے محمد حنیف کے معاملے میں استعمال کیئے جانے والے انسدادِ دہشت گردی کے متنازعہ آسٹریلوی قوانین پر تنقید کی ہے۔ 2004 میں بننے والے ان قوانین کے تحت ایک مجسٹریٹ سے اجازت کے بعد پولیس ڈاکٹر حنیف کو غیر معینہ مدت کے لیے زیرِ حراست رکھ سکتی ہے۔ ادھر برطانیہ میں ان ناکام حملوں کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے سات لوگوں میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا ہے۔ رہا کی گئی خاتون کا نام ماروا عشا ہے۔ وہ اردن کے ایک ڈاکٹر محمد عشا کی بیوی ہیں۔ محمد عشا اب بھی پولیس کی حراست میں ہیں۔ گلاسگو اور لندن میں ہونے والے ناکام حملوں کے سلسلے میں برطانیہ میں سات اور آسٹریلیا میں ایک شخص کو حراست میں لیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں تحقیقات کے لیے مزید وقت درکار11 July, 2007 | آس پاس لندن کار بم: آسٹریلیا میں چھاپے06 July, 2007 | آس پاس جلتی ہوئی جیپ ہوائی اڈے میں30 June, 2007 | آس پاس لندن بمبار، تلاش کا دائرہ وسیع30 June, 2007 | آس پاس لندن: ایک اور کار بم برآمد29 June, 2007 | آس پاس مرکزی لندن،دھماکہ خیز مواد برآمد29 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||