بلیئر،ایلچی برائے امن تقرری پر غور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سفارت کاروں کے مطابق مشرقِ وسطٰی میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے ممالک، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ ٹونی بلیئر کو ایلچی برائے امن مقرر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹونی بلیئر بدھ کو برطانوی وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ رہے ہیں اور اب امریکہ، روس، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے ایک اجلاس میں انہیں یہ نئی ذمہ داریاں سونپنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس یروشلم میں امریکی سفارت خانے میں ہو رہا ہے اور ذرائع ابلاغ کو اس میں مدعو نہیں کیا گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ٹونی بلیئر کو یہ عہدہ دینے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے جبکہ روس سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس تقرری کی مخالفت نہیں کرے گا۔ خود ٹونی بلیئر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے حوالے سے کوششوں کے لیے پر عزم ہیں۔ تاہم زیادہ تر عرب انہیں بہت زیادہ حد تک امریکہ اور اسرائیل نواز سمجھتے ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق بلیئر مشرقِ وسطٰی کے حوالے سے ایک متنازعہ شخصیت ہیں اور اس کی بنیادی وجہ عراق جنگ ہے۔ اس کے علاوہ ان پر لبنان پر اسرائیلی بمباری کی مذمت نہ کرنے پر بھی نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹم فرینکس کے مطابق اسرائیلی حکام ٹونی بلیئر کے عہدے اور تجربے کے حوالے سے بہت مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ فلسطینی اس بارے میں مشکوک ہیں کہ وہ اس حوالے سے کسی قسم کا اثر چھوڑنے میں کامیاب ہوں گے۔ حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ بلیئر کے حوالے سے ہمارا تجربہ برا رہا ہے اور ان کی تقرری سے حالات مزید خراب ہی ہوں گے‘۔ برطانوی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی خبروں کے مطابق اگر بلیئر کو ایلچی بنایا گیا تو غربِ اردن اور غزہ میں اسرائیلی قبضہ ختم کروانے کے حوالے سے ثالثی نہیں کریں گے بلکہ ممکن ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ مل کر سکیورٹی، معاشی اور انتظامی امور پر کام کریں۔ | اسی بارے میں چار فریقی مذاکرات، بلیئر کا نیا کردار 21 June, 2007 | آس پاس بلیئر کو سفارتکاری کی پیشکش20 June, 2007 | آس پاس ’برطانیہ عالمی ذمہ داریاں نبھائےگا‘ 24 June, 2007 | آس پاس ٹونی بلیئراچانک بغداد پہنچ گئے19 May, 2007 | آس پاس ٹونی بلیئر کی کہانی10 May, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||