BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 June, 2007, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پناہ گزینوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا
افغان پناہ گزین
افغانستان میں بہت سے لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹے ہیں
دہشت گردی کے حملوں کا خطرہ دنیا کے کئی ممالک میں ان لوگوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے جو وہاں پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر یہ تنبیہہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یواین ایچ سی آر کے سربراہ اینٹونیو گوٹریز نے کہا ہے کہ بعض ممالک نے امیگریشن کم کرنے کے لیے اتنے سخت اقدامات کیے ہیں کہ پناہ گزینوں کے لیے بھی تمام راستے بند ہو گئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پناہ کے طلبگار دہشت گرد نہیں بلکہ خود دہشت کا شکار ہوتے ہیں۔

ادارے کے مطابق پانچ سال تک کم ہونے کے بعد پناہ گزینوں کی تعداد میں گزشتہ برس اضافہ ہوا اور یہ تعداد اب ایک کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ عراق اور صومالیہ میں سکیورٹی کی ابتر صورتحال بتائی گئی ہے۔

عراقی پناہ گزین
سب سے زیادہ لوگ عراق میں جاری تشدد کی وجہ سے اپنےگھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں

اقوام متحدہ کے تخمیوں کے مطابق تشدد اور سرکاری جبر کی وجہ سے تقریباً ساڑھے چار کروڑ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان میں سے کچھ نے بیرون ملک کا رخ کیا ہے۔

مسٹر گوٹریز کے مطابق بین الاقوامی برادری خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کر رہی ہے۔

لیکن اقوام متحدہ کے مطابق اس سب کے باوجود رجائیت کی گنجائش باقی ہے اور افغانستان، سوڈان اور کونگو میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین اپنے گھروں کو لوٹے ہیں۔

مسٹر گوٹریز نے کہا کہ سوڈان لوٹنے والے بہت سے لوگ ملک کی تعمیر نو میں ہمت اور عزم کے ساتھ جٹے ہوئے ہیں لیکن پناہ گزینوں کو در پیش مصائب پر مغربی دنیا کا رد عمل ملا جلا رہا ہے۔

’ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کئی ممالک میں پناہ گزینوں کے معاملے پر تشویش بڑھی ہے لیکن اس بات کا اعادہ کیا جانا ضروری ہے کہ یہ لوگ دہشت گرد نہیں ہیں، بلکہ خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔‘

 کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پناہ گزینوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک روا رکھا گیا ہے
انٹونیو گوٹریز
لیکن ان کے مطابق کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں پناہ گزینوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک روا رکھا گیا ہے۔ عراقی پناہ گزینوں کے ساتھ اچھے سلوک کے تعلق سے انہوں نے سوئیڈن اور ہالینڈ کا خاص طور پر ذکر کیا۔

عراق کی جنگ نے چالیس لاکھ لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا ہے، جن میں سے بیس لاکھ اندرون ملک ہیں اور بیس لاکھ عراق چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

افغانستان کا نقشہپناہ گزینوں کوپیغام
’افغانستان آپ کا گھر ہے، خوش آمدید‘
افغان مہاجرین ’افغان ہونا جرم ہے؟‘
’ایک گھنٹے کے نوٹس پر دکانیں گرا دی گئیں‘
عراقی پناہ گزینپناہ گزین بڑھ گئے
پانچ سال بعد پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ
مزدوری پر مجبور
کچرے کے ڈھیروں پر روزی کی تلاش
اسی بارے میں
’یہ سراسر ظلم ہے‘
09 June, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد