پناہ گزینوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہشت گردی کے حملوں کا خطرہ دنیا کے کئی ممالک میں ان لوگوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے جو وہاں پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر یہ تنبیہہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یواین ایچ سی آر کے سربراہ اینٹونیو گوٹریز نے کہا ہے کہ بعض ممالک نے امیگریشن کم کرنے کے لیے اتنے سخت اقدامات کیے ہیں کہ پناہ گزینوں کے لیے بھی تمام راستے بند ہو گئے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پناہ کے طلبگار دہشت گرد نہیں بلکہ خود دہشت کا شکار ہوتے ہیں۔ ادارے کے مطابق پانچ سال تک کم ہونے کے بعد پناہ گزینوں کی تعداد میں گزشتہ برس اضافہ ہوا اور یہ تعداد اب ایک کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ عراق اور صومالیہ میں سکیورٹی کی ابتر صورتحال بتائی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے تخمیوں کے مطابق تشدد اور سرکاری جبر کی وجہ سے تقریباً ساڑھے چار کروڑ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ان میں سے کچھ نے بیرون ملک کا رخ کیا ہے۔ مسٹر گوٹریز کے مطابق بین الاقوامی برادری خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کر رہی ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کے مطابق اس سب کے باوجود رجائیت کی گنجائش باقی ہے اور افغانستان، سوڈان اور کونگو میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین اپنے گھروں کو لوٹے ہیں۔ مسٹر گوٹریز نے کہا کہ سوڈان لوٹنے والے بہت سے لوگ ملک کی تعمیر نو میں ہمت اور عزم کے ساتھ جٹے ہوئے ہیں لیکن پناہ گزینوں کو در پیش مصائب پر مغربی دنیا کا رد عمل ملا جلا رہا ہے۔ ’ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کئی ممالک میں پناہ گزینوں کے معاملے پر تشویش بڑھی ہے لیکن اس بات کا اعادہ کیا جانا ضروری ہے کہ یہ لوگ دہشت گرد نہیں ہیں، بلکہ خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔‘ عراق کی جنگ نے چالیس لاکھ لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا ہے، جن میں سے بیس لاکھ اندرون ملک ہیں اور بیس لاکھ عراق چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں مہاجرین کی منتقلی کے فیصلے پر ردِعمل29 May, 2007 | پاکستان ’ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم افغان ہیں؟‘30 May, 2007 | پاکستان ’یہ سراسر ظلم ہے‘09 June, 2007 | آس پاس پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ19 June, 2007 | آس پاس مہاجرین کا عالمی دن اورافغان بچے 20 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||