BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 June, 2007, 20:24 GMT 01:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نہرالبارد کےبعدعین الحلوہ میں لڑائی
عین الحلوہ کیمپ
یہ واضح نہیں کہ ان جھڑپوں کا تعلق نہرالبارد کی لڑائی سے ہے یا نہیں
لبنان میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں اور فوج کے درمیان ایک اور فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں بھی لڑائی ہوئی ہے۔

یہ لڑائی سدون نامی شہر کے قریب واقع عین الحلوہ نامی پناہ گزین کیمپ میں ہوئی ہے اور اس میں جند الشام نامی گروپ سے تعلق رکھنے والے سدت پسند ملوث ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب مشتبہ شدت پسندوں نے ایک فوجی چوکی پر گرینیڈ سے حملہ کیا جس سے ایک فوجی اور ایک شہری زخمی ہوا۔ اس حملے کے بعد عین الحلوہ کیمپ میں موجود فوجی دستوں نے شدت پسندوں پر فائرنگ کی۔

سدون کے میئر عبدالرحمان بزری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس لڑائی میں چند شدت پسند ملوث تھے جن پر اب قابو پا لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا’ ہم فلسطینی تنظیموں اور کیمپ کے بڑے اسلامی گروپوں کی مدد سے ان شدت پسندوں کی کارروائیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے اور ان جھڑپوں کے بڑی لڑائی میں تبدیل ہونے سے قبل ہی ان پر قابو پا لیا گیا‘۔

نہر البارد میں لبنانی فوج نے پیر کو شدت پسندوں پر مزیدگولہ باری کی

یہ تاحال واضح نہیں کہ ان جھڑپوں کا تعلق نہرالبارد کے فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں ہونے والی لڑائی سے ہے یا نہیں۔ تاہم بیروت میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق جند الشام کے شدت پسند نہرالبارد میں لبنانی فوج سے نبرد آزما فتح الاسلام کے شدت پسندوں کی مانند ہیں۔

ادھر نہر البارد میں لبنانی فوج نے پیر کو شدت پسندوں پر مزیدگولہ باری کی ہے تاکہ انہیں پسپا ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ فوج کا کہنا ہے کہ فتح الاسلام گروپ کے شدت پسندوں کو شدید لڑائی کے بعد فلسطینی کیمپ کے کناروں سے پرے دھکیل دیا گیا۔

شمالی لبنان میں دو ہفتے سے جاری اس لڑائی میں سو سے زائد شہری، شدت پسند اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہم فلسطینی تنظیموں اور کیمپ کے بڑے اسلامی گروپوں کی مدد سے ان شدت پسندوں کی کارروائیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے اور ان جھڑپوں کے بڑی لڑائی میں تبدیل ہونے سے قبل ہی ان پر قابو پا لیا گیا۔
عبدالرحمان بزری،میئر سدون

اس سے قبل لبنانی وزیرِ اعظم نے شدت پسند گروپ کو ’دہشت گردوں کا ٹولہ‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان سے مذاکرات نہیں ہو سکتے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یہ شدت پسند ہتھیار ڈال دیں تو ان پر غیر جانبدارانہ طور پر مقدمہ چلایا جائے گا لیکن تب تک فوج اپنا آپریشن جاری رکھے گی۔

اس بیان پر شدت پسندوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ خون کے آخری قطرے تک لڑتے رہیں گے۔ فتح الاسلام نامی گروپ کے ترجمان ابو سالم طٰہ نے کہا کہ وہ ہتھیار ڈالنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ابو سالم کا کہنا تھا’ ہم ہتھیار نہیں پھینکیں گے اور خون کے آخری قطرے تک مقابلہ کریں گے۔ بہر البارد کیمپ تباہ کن گولہ باری کے باوجود گھٹنے نہیں ٹیکے گا اور فوج یہاں داخل نہیں ہو سکے گی‘۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق نہر البارد کیمپ کے رہائشی اکتیس ہزار پناہ گزینوں میں سے پچیس ہزار یہ کیمپ چھوڑ کر جا چکے ہیں اور امدادی اداروں نے مزید پناہ گزینوں کو نکالنے کے لیے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔یاد رہے کہ لبنان میں بارہ فلسطینی پناہ گزین کیمپ ہیں جو کہ سنہ 1948 میں اسرائیل کی تشکیل کے بعد قائم کیے گئے تھے۔

لبنانجھڑپیں اور انخلاء
نہرالبارد کے پناہ گزین مشکلات کا شکار
حزب اللہ کا احتجاجبیروت: احتجاج جاری
لبنان میں حزب اللہ کا سیاسی معرکہ جاری
لبنانتعمیر نو کا چیلنج
چھ سو کلومیٹر لمبی سڑکیں اور 150 پُل تباہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد