تامل حملہ،ہلاکتوں کے متضٰاد دعوے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تامل باغیوں نے جزیرہ نما جافنا میں واقع سری لنکن بحری اڈے پر حملے کے دوران بحریہ کے پینتیس ملاحوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔ باغیوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی صرف بیس منٹ جاری رہی۔ رسیہ الانتھریان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کا ہدف ڈیلفٹ کے جنوب میں واقع بحریہ کا کیمپ تھا اور بیس منٹ کی کارروائی میں سب کچھ تباہ کر دیا گیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لڑائی کے بعد باغیوں کے بحری حملہ آور یونٹ نے پینتیس لاشیں دریافت کیں۔ تاہم سری لنکن فوج کے ترجمان بریگیڈئر پرساد سمارا سنگھے نے باغیوں کے ان دعووں کی تردید کی اور خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ باغیوں نے ایک چھوٹے سے کیمپ پر حملہ کیا اور دس کے قریب ملاح ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا’ وہاں ہمارے پینتیس ملاح تھے ہی نہیں ۔ یہ سب جھوٹا پروپیگنڈہ ہے‘۔ اس سے قبل سری لنکن بحریہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ حملہ سمندر اور خشکی دونوں جانب سے کیا گیا۔ کمانڈر ڈی کے پی دسانائیکے کا کہنا تھا کہ’ ہم تامل باغیوں کا سمندر اور خشکی پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ حملے میں پندرہ کشتیاں شریک تھیں جن میں سے تین خود کش حملہ آور کشتیاں تھیں۔ ہم نے اب تک دشمنوں کی ایک کشتی تباہ کر دی ہے‘۔ اگرچہ سری لنکا میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا ہے لیکن گزشتہ پندرہ ماہ کے دوران تامل باغیوں اور فوج کی جھڑپوں اور کارروائیوں میں چار ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ چار ماہ میں پانچ سو سے زائد باغیوں کو شمالی سری لنکا میں مارا گیا ہے۔ تامل باغی کئی برس سے تامل اقلیت کے لیے علیحدہ وطن کے قیام کے لیے بر سرِ پیکار ہیں جبکہ سری لنکن حکام یہ دعوٰی کرتے رہے ہیں کہ وہ آنے والے دو سے تین سالوں میں باغیوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ | اسی بارے میں سری لنکا: جھڑپوں میں 10 ہلاک05 May, 2007 | آس پاس کولمبو میں باغیوں کے فضائی حملے29 April, 2007 | آس پاس فوج پر تامل باغیوں کا فضائی حملہ24 April, 2007 | آس پاس سری لنکا: فوجی اڈے پر حملہ25 March, 2007 | آس پاس ’خود کش حملوں میں سری لنکا آگے‘15 February, 2007 | آس پاس سری لنکا: بس میں دھماکہ، 15 ہلاک06 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||