اسرائیلی حملوں میں چھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ شہر پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری کے بعد اب اس کے ٹینک بھی شہر میں داخل ہو گئے ہیں۔ فضائی بمباری میں چھ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ ان کی یہ کارروائی فلسطینیوں کی طرف سے ممکنہ حملے روکنے کے لیے ہے جبکہ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وہاں پر قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسرائیل ایک بڑی زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ شہر پر راکٹوں سے تین حملے کیے تھے۔اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ غزہ شہر پر حملے کا نشانہ شدت پسند گروپ حماس کے ایک رکن کی کار تھی۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں حماس کے سکیورٹی ہیڈ کوارٹر کو بھی میزائل کا نشانہ بنایا تھا جس میں ہیڈ کوارٹر کی عمارت تباہ ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ عمارت حماس کے سرکردہ رہنماؤں کے استعمال میں ہوتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوارٹر پر حملے کے بعد ہر طرف چیخ و پکار تھی اور مسلح افراد نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی جبکہ باقی اپنی جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ حماس کے عسکری بازو نے دھمکی دی ہے کہ حملے کا جواب دیا جائے گا۔
اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے فضائی حملے جنوبی اسرائیل پر حماس کے درجنوں راکٹ حملوں کے جواب میں کیے۔ ان حملوں میں سولہ اسرائیلی زخمی ہوئے۔ اس دوران غزہ میں الفتح اور حماس کے دھڑوں میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیاں جمعرات کو پانچویں روز بھی جاری رہیں۔ ان کارروائیوں کے باعث کم و بیش پینتالیس لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ الفتح اور حماس کے دھڑوں میں تشدد کے ساتھ ساتھ پھر معاہدے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن جھڑپوں کی وجہ سے بدھ کو تیس نامہ نگاروں سمیت بہت سے افراد کو کئی گھنٹوں تک گھروں کے اندر قید رہنا پڑا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حماس اور فتح کے حامیوں کے درمیان نزع اس بات پر شروع ہوئی کہ سکیورٹی افواج کا کنٹرول کس کے پاس ہے لیکن اب یہ جھڑپیں نیا رنگ اختیار کر چکی ہیں۔ حماس کی حکومت میں وزیرِ داخلہ جو آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے تھے، تشدد کے واقعات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ نامہ نگار کہتے ہیں راکٹ داغنے کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ کسی طرح فلسطینیوں کی داخلی نزع میں اسرائیل کو گھسیٹا جائے۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود اولمرت نے کہا تھا کہ ضبط و تحمل کی پالیسی اس طرح جاری نہیں رہ سکتی اور راکٹ داغے جانے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں حماس اور الفتح میں لڑائی پھر شروع 11 March, 2007 | آس پاس غزہ: حماس کے تین ارکان ہلاک28 April, 2007 | آس پاس استعفے کے بعد غزہ بحران شدید14 May, 2007 | آس پاس معاہدہ، پھر جھڑپیں اور پھر معاہدہ15 May, 2007 | آس پاس فتح اور حماس میں معاہدہ طے14 May, 2007 | آس پاس برطانوی سفیر کا حماس سے رابطہ06 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||