BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 May, 2007, 08:54 GMT 13:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی ذرائع ابلاغ میں کراچی نمایاں

امریکی اخبارات نے ایم کیو ایم کو ذمہ دار ٹھرایا ہے
امریکی اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سنیچر ہونے والے سیاسی تشدد کو نمایاں انداز اور تفصیل سے شائع اور نشر کیا ہے۔

امریکہ میں اتوار کی صبح آنے والے بڑے اخبارات نے پاکستان میں فوجی صدر پرویز مشرف کے ہاتھوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے بعد پیدا ہوجانے والے بحران کے پس منظر اور کراچي میں حالیہ تشدد کی لہر کو برسوں میں ہونےوالے بدترین سیاسی تشدد سے تعبیر کیا ہے۔

جبکہ کچھ مؤقر امریکی اخبارات نے ایسے مبینہ تشدد کے پیچھے صدر جنرل پرویز مشرف کی حامی لیکن کراچي اور صوبہ سندھ میں حکومت کی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو ’ڈرائیونگ فورس‘ قرار دیا ہے۔

اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنے صفحہ اول پر ’پاکستان میں تشدد بھڑک اٹھا‘ والی شہ سرخي میں، ہلاک ہونےوالوں کی تعداد کم از کم اٹھائیس بتاتے ہوئے سنیچر کو ہونے والے تشدد کو برسوں میں بدترین تشدد قراد دیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ تشدد پاکستان کے معطل شدہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچي آمد کے موقع پر بھڑک اٹھا جو وہاں ہائي کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجتماع سے خطاب کرنے آئے تھے لیکن چیف جسٹس چودھری شہر میں پھوٹ پڑنے والے تشدد کی وجہ ائيرپورٹ سے باہر آنے سے قاصر رہے۔

کراچی کے واقعات
’تشدد کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے عملی ان کی نا اہلی یا پھر تشدد کرنے والوں کے ساتھ ملی بھگت کو ظاہر کرتی ہے۔‘
ہیومن رائٹس واچ

اس امریکی اخبار کے مطابق شہر میں تشدد اور آگ دیکھی گئي جبکہ شہر میں حکومت نواز برسر اقتدار پارٹی اور حکومت مخالفین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے ہوئے۔

نیویارک ٹائمز نے پرائیویٹ ٹی وی چینل ’ آج‘ کی عمارت پر مسلح نوجوانوں کی طرف سے گھنٹوں تک فائرنگ کا بھی ذکر کیا ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ کراچی جو صدر مشرف کی سیاسی حلیف ایم کیو ایم کے حکومتی کنٹرول میں ہے فرقہ وارانہ اور لسانی تشدد کا ماضی رکھتا ہے۔ جبکہ سنیچر کے سیاسی تشدد پر متحدہ قومی موومنٹ کے دو مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور نسرین جلیل نے تشدد کی ذمہ داری چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر ڈالی۔ ’وہ سو فی صد، دو فی صد ذمہ دار ہیں‘ نیویارک ٹائمز نے فاروق ستار کے حوالے سے بتایا ہے۔

تاہم ’نیویارک ٹائمز' نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کراچي میں سنیچر کو ہونیوالے تشدد اور اس میں متحدہ قومی موومینٹ کے کردار کی مذمت کی ہے۔

ایم کیو ایم کی مذمت
 صدر مشرف کی سیاسی حلیف ایم کیو ایم کے حکومتی کنٹرول میں ہے فرقہ وارانہ اور لسانی تشدد کا ماضی رکھتی ہے۔
نیویارک ٹائمز

اخبار نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنےوالی امریکی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی طرف سے جاری کردہ بیان کاحوالہ دیا جس میں ایچ آر ڈبلیو (ہیومن رائٹس واچ) کے جنوبی ایشیا کے تحقیق کار نے کہا ہے ’گزشتہ دنوں سے صوبائی حکام کے پریس میں آنےوالے بیانات اور سینکڑوں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں سمیت حالات جو تشدد پر منتج ہوئے اشارہ کرتے ہیں کہ حکومت کراچي میں جان بوجھ کر اپنے اتحادیوں کے ذریعے تشدد کو ہوا دے رہی تھی۔

انسانی حقوق کی امریکی تنظیم کے جنوبی ایشیا کےلیے تحقیق کار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا ہے ’تشدد کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے عملی ان کی نا اہلی یا پھر تشدد کرنے والوں کے ساتھ ملی بھگت کو ظاہر کرتی ہے۔‘

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اگرچہ پندرہ ہزار کی نفری شہر میں تھی لیکن تشدد دوران ان کی زیادہ تر عدم مداخلت ہی دیکھنے میں آئي۔

کراچی میں مرنے والوں کی تعداد چھتیس ہوگئی ہے

با اثر امریکی اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ نے سنیچر کو کراچي میں سیاسی تشدد پر تفصیلی رپورٹ شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان مں سیاسی بحران جو گزشتہ آٹھ سالوں میں صدر مشرف کی حکومت کو سب سے بڑا چیلینج ہے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سیاسی تشدد کی شکل میں پھوٹ پڑا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حزب مخالف کی پارٹیاں تشدد کا ذمہ دار حکومتی حلیف جماعت ایم کیو ایم کو قرار دیتی ہے جہنوں نے، بقول حزب مخالف کے رہنماؤں کے، ان کی پارٹیوں کے ان کارکنوں پر ہتھیاروں کے منہ کھول دیئے جو ملک کے معطل شدہ چيف جسٹس کے استقبال کو جار ہے تھے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ جسٹس چودھری کا اپنے حامیوں کو خطاب متوقع تھا لیکن انہیں ایئرپورٹ سے باہر آنے سے روکا گیا اور ايئرپورٹ سے لے کر شہر کے مرکزی علاقے تک جا بجا کنٹینر اور ٹینکر کھڑے کرکے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئيں۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے آج ٹی وی چینل پر فائرنگ سمیت وکلاء اور صحافیوں پر بھی تشدد کیا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے سنیچر کے روزتشدد میں ہلاک ہونے والوں کا زیادہ تر واسطہ حزب مخالف کی پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت ملک کے بااثر حلقوں میں زیادہ پڑ ھے جانےوالے ایک اور اخبار ’یو ایس اے ٹو ڈے‘ نے کراچي میں تشدد کی تقصیلات نمایاں طور پر شائع کی ہیں۔

یو ایس اے ٹوڈے نے لکھا ہے کہ کراچي میں ہونے والے حملوں نے چیف جسٹس کو ہوائي اڈے پر محصور کرکے رکھ دیا۔

یو ایس اے ٹو ڈے نے مزید لکھا ہے کہ گزشتہ دو ماہ سے پاکستان میں مبصرین کہتے آئے ہیں کہ صدر جنرل مشرف موجودہ بحران کو جان بوجھ کر طول دے رہے ہیں جیسے وہ ملک میں اس کے بہانے ایمرجنسی کا نفاذ کرسکیں۔

ایک اور بااثر اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے کراچي میں تشدد کے پیچھے اصل محرک مشرف حکومت کے حامیوں کو قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری متوقع طور پر اپنے استقبالیہ (جو تشدد کے وجہ سے نہیں ہو سکا) سے خطاب میں اپنے عہدے کی بحالی اور جنرل مشرف کوحکومت سے سبکدوش ہونے یا فوجی عہدہ چھوڑنے کوکہتے جس کی وجہ سے ، بقول چیف جسٹس کے حامیوں کے، انہیں معطل کیا گيا تھا۔

اخبار نے لکھا ہے کہ کراچي کے تشدد نے جنرل پرویز مشرف کے بے نظیر بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کےساتھ پریس رپورٹوں میں آنےوالی پیش رفت کو بھی کھٹائی میں ڈال دیا ہے۔

جہاں امریکی اخبارات میں کراچی میں سیاسی تشدد کی نمایاں اور تفصیلی خبروں کے ساتھ فوجی صدر مشرف کے ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں، بقول ’نیویارک ٹائمز‘ بلٹ پروف اسکرین کے پیچھے ہزاروں سے خطاب کا بھی ذکر کیا گيا ہے وہاں ان تمام اخبارات نے ہیومن رائٹس واچ کے مشرف حکومت پر کراچي کے تشدد کے حوالے سے مذمتی بیان کو بھی نمایاں طور پر شائع کیا۔

’بائيس مئي پاکستان میں سیاسی اور شہری آزادیوں کے لیے ایک یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جاۓ گا‘ جیسے ہیومن رائٹس واچ کے ریمارکس کو تمام اخبارات سمیت مشہور نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) نے بھی پاکستان میں سیاسی تششد کی خبروں کےساتھ نشر کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد