ورجینیا ٹیک میں تقسیمِ اسناد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی یونیورسٹی ورجینیا ٹیک میں جہاں گزشتہ ماہ ایک طالب علم نے اندھا دھند فائرنگ سے 32 طلبہ اور اساتذہ کو ہلاک کر دیا تھا، گریجوایشن سیریمنی یعنی تقسیم اسناد کی سالانہ تقریب ہو رہی ہے۔ اس یونیورسٹی میں 16 اپریل کو ایک 23 سالہ طالب علم چُو سیونگ ہوئی نے 32 طالب علموں اور اساتذہ کو قتل کرنےکے بعد خود کو بھی گولی مار لی تھی۔ ہلاک ہونے والے 27 طالب علموں کو ان کی موت کے بعد ڈگریاں دی جا رہی ہیں۔ تقسیم اسناد کی تقریب میں تقریباً 5,000 طالب علموں کو ڈگریاں دی جائیں گی اور اس تقریب میں 30,000 سے زائد افراد شرکت کر رہے ہیں۔
ورجینیا ٹیک کے صدر چارلز سٹیجر نے تقریب کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمارے دل افسردہ اور ہمارے ذہن پریشان ہیں۔‘ یونیورسٹی میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور کیمپس میں اضافی پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ یونیورسٹی کے ترجمان مارک اوزارسکی نے کہا کہ 16 اپریل سے ہی ورجینیا ٹیک الرٹ کی حالت میں ہے اور پولیس کی موجودگی سے سلامتی اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کے سابق سربراہ جنرل ابی زید کا بیٹا بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے اور توقع ہے کہ جنرل ابی زید بھی یونیورسٹی آ کر طالب علموں سے خطاب کریں گے۔
واشنگٹن میں صدر بش نے ایک بیان میں یونیورسٹی کے جذبے کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’لورا اور میں ورجینیا ٹیک کی 2007 کی کلاس کو سلام کرتے ہیں۔ ہم ان طالب علموں اور اساتذہ کو بھی یاد کرتے ہیں جو گزشتہ ماہ اپنی جانوںسے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ’ان کے لیے ڈگری لینے والوں اور پوری قوم کے دلوں میں ہمیشہ ایک خاص مقام رہے گا۔‘ تقسیمِ اسناد کی تقریب سنیچر کو اختتام پذیر ہو گی۔ |
اسی بارے میں ورجینیا شوٹنگ: ’ملزم، امریکی کلچر‘ 19 April, 2007 | آس پاس ’گن مین جنوبی کوریائی تھا‘17 April, 2007 | آس پاس امریکہ: مرنےوالے تینتیس ہو گئے16 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||