BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 May, 2007, 12:51 GMT 17:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران امریکہ، براہ راست رابطہ نہ ہوا
عام خیال تھا کہ ایران اور امریکی وزراء خارجہ کے درمیان ملاقات ہو گی
ایران نے عراق میں امریکی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے عراق میں جاری فرقہ وارانہ تشدد کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے عراق کی سکیورٹی کے بارے میں عالمی طاقتوں اور خطوں کے ممالک کی مصر میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پر امریکہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

عراق کے بارے میں ہونے والی اس کانفرنس میں توقع کی جارہی تھی کہ گزشتہ تین دہائیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان پہلا براہ راست رابطہ ہو سکے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس سخت تنقید کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان اس متوقع رابطے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔

اس کانفرنس میں جمعہ کو بھی ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی اور امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس کے درمیان براہ راست ملاقات نہیں ہوسکی تاہم عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری کے مطابق اس کانفرنس کے دوران امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔

مصر کے سیاحتی علاقے شرم الشیخ میں ہونے والی اس کانفرنس میں ایران اور مصر کے علاوہ جی ایٹ ممالک اور یورپی یونین کے وزراء خارجہ شریک ہورہے ہیں۔

عراق کی سکیورٹی صورت حال
 عراق میں جاری تشدد اور اس میں مسلسل اضافے کی وجہ عراق پر مسلط بیرونی افواج کی ناقص حکمت عملی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی

اس کانفرنس میں عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے عراق کے ہمسایہ ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق میں ’دہشت گردوں‘ کی مالی معاونت کرنا بند کر دیں اور انہیں عراق میں داخل ہونے سے روکیں۔

نوری المالکی نے کہا کہ وہ عراق کی سرزمین کو دہشت گردوں کی جنت بننے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسی بنا پر عراق کے ہمسایہ ملکوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ عراق میں ’دہشت گردوں‘ کو داخل ہونے سے روکیں اور ان کو مالی اور مادی امداد پہنچنے نہیں دیں۔

امریکہ نے اس سے قبل ایران اور شام پر عراق میں بدامنی پھیلانے اور شدت پسندوں کو عراق میں داخل ہونے دینے کے الزامات لگائے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ عراق میں استحکام بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ عراق سے اپنی فوجیں واپس بلانے کی تاریخوں کا تعین کرے۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں جاری تشدد اور اس میں مسلسل اضافے کی وجہ عراق پر مسلط بیرونی افواج کی ناقص حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے ان کی دانست میں اس بحران کی اصل وجہ بیرونی قبضے کا جاری رہنا ہے۔

متقی نے کہا کہ امریکہ کو اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا چاہیے اور دوسروں پر اس طرح کے الزامات عائد نہیں کرنے چاہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد