تارکینِ وطن، فیصلے کے منتطر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیر ملکی تارکینِ وطن سے بھری کشتی کے موریطانوی ساحل نوادیبو پر لنگر انداز ہونے کے بعد اب یہ افراد اپنے مستقبل کے بارے میں ہسپانوی اور موریطانوی حکومتوں کے فیصلے کے منتطر ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہسپانوی حکام نے منگل کو سینکڑوں ایشیائی اور افریقی تارکین وطن کے لیے چار فوجی طیارے بھیجے تھے۔ تاہم منگل کی دوپہر تک صرف ایک طیارہ گنی بساؤ کی جانب روانہ کیا جا سکا جسے راستے سے ہی واپس لوٹنا پڑا کیونکہ گنی کے حکام نے اسے اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس طیارے پر گنی، سیرالیون، آئوری کوسٹ اور لائبیریا کے تیس تارکینِ وطن سوار ہیں۔ موریطانیہ کے پولیس چیف کے مطابق یہ طیارہ واپس موریطانیہ آیا تاہم اسے ابتداء میں یہاں بھی اترنے کی اجازت نہیں ملی تاہم بعد ازاں اسے ایندھن بھرنے کے لیے اترنے کی اجازت دے دی گئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایندھن بھر کر یہ طیارہ دوبارہ پرواز کر گیا تاہم اس کی منزل معلوم نہیں ہو سکی۔ ان تیس تارکینِ وطن کے علاوہ کشی میں سینکڑوں ایشیائی افراد بھی سوار تھے جن میں سے اکثریت کا تعلق کشمیر سے ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے نوادیبو کے گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان تارکینِ وطن میں سے زیادہ تر واپس بھیجے جانے کے بچنے کے لیے اپنی شناخت ظاہر نہیں کر رہے ہیں اور اس وجہ سے ان کی واپسی کے عمل میں مشکلات درپیش ہیں۔ تارکینِ وطن کا یہ معاملہ قریباً دو ہفتے قبل اس وقت سامنے آیا تھا جب میرین 1 نامی ایشیائی اور افریقی تارکینِ وطن سے بھری ایک کشتی بین الاقوامی پانیوں میں خراب ہو گئی تھی اور اسے ہسپانوی بحریہ کے ایک جہاز نے کھینچ کر موریطانیہ کی شمالی بندرگاہ نووادیبو پہنچایا تھا۔ یہ کشتی گنی کی طرف جا رہی تھی جہاں سے اس کی منزل کنیری کے جزائر تھی۔ آٹھ دن تک سمندر مںی رہنے کے بعدگزشتہ پیر کوموریطانوی ساحل پر ہسپانوی حکام کی موجودگی میں اس میں سے پہلے بیمار مسافروں کو نکالا گیا اور طبی امداد فراہم کی گئی تھی۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کے مائیکل تشانز نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ’نکالے جانے والے افراد زیادہ تر ہندوستانی ہیں اور ان کا ادارہ ان تارکین وطن کی مدد کرنا چاہتا ہے جو رضاکارانہ طور پر اپنے ملکوں کو لوٹنا چاہتے ہیں‘۔ سینیگال اور موریطانیہ غیر ملکی تارکینِ وطن کے لیے یورپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے مشہور ہیں۔ ان ممالک سے غیر ملکی تارکینِ وطن کنیری کے جزیروں پر پہنچتے ہیں جہاں سے انہیں یورپ میں داخل ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں تارکینِ وطن، کشتی موریطانیہ پہنچ گئی12 February, 2007 | آس پاس موریطانیہ:’ کشتی پیر کو پہنچےگی‘11 February, 2007 | آس پاس موریطانیہ:تارکینِ وطن کو اجازت10 February, 2007 | آس پاس پھنسے پاکستانیوں کیلیے امداد06 February, 2007 | آس پاس سینکڑوں پاکستانی تارکین پھنس گئے05 February, 2007 | آس پاس تارکین وطن سے فائدہ نہیں: رپورٹ03 January, 2007 | آس پاس پاکستانی، بھارتیوں کا ہسپانیہ پر ہلہ 27 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||