تارکینِ وطن، کشتی موریطانیہ پہنچ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موریطانیہ کے ساحل کے قریب موجود غیر ملکی تارکینِ وطن سے بھری کشتی موریطانوی ساحل نوادیبو پر لنگر انداز ہوگئی ہے۔ اس کشتی میں دو سوغیر قانونی کشمیریوں سمیت سینکڑوں ایشیائی اور افریقی تارکینِ وطن سوار ہیں جو ایک ہفتے قبل سمندر میں خراب ہوگئی تھی اور سپین کی بحری فوج کے ایک جہاز نے اس کشتی کو کھینچ کر موریطانیہ کی شمالی بندرگاہ نووادھیبو پہنچایا تھا۔ یہ کشتی گنی کی طرف جا رہی تھی جہاں سے اس کی منزل کنیری کے جزائر تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے کے بعد، پیر کوموریطانیہ کی بندرگاہ نوادیبو پر سپینش حکام کی موجودگی میں اس میں سے پہلے بیمار مسافروں کو نکالا گیا اور طبی امداد فراہم کی گئی۔ سپینش حکام باقی تمام افراد کی شناخت کرنے کے بعد انہیں نوادیبو میں پہلے سے موجود خصوصی طیاروں سے ان کے وطن واپس روانہ کریں گے۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق کشتی کے لنگر انداز ہونے کے وقت موجود ایک سفارت کار کا کہنا تھا’یہ کیسے غیر قانونی تارکین وطن ہیں جو اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے غیر قانونی قرار دے دئیے گئے‘۔ سپینش ریڈ کراس کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا’ کشتی میں سوار بہت سے گروہوں کے اراکین کو نکال لیا گیا ہے جن کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے تاہم صحت کی خرابی سے متعلق کوئی سنگین کیس سامنے نہیں آیا ہے‘۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کے مائیکل تشانز نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا’اب تک نکالے جانے والے افراد زیادہ تر ہندوستانی ہیں اور ان کا ادارہ ان تارکین وطن کی مدد کرنا چاہتا ہے جو رضاکارانہ طور پر اپنے ملکوں کو لوٹنا چاہتے ہیں‘۔ سینیگال اور موریطانیہ غیر ملکی تارکینِ وطن کے لیے یورپی ممالک میں داخل ہونے کے لیے مشہور ہیں۔ ان ممالک سے غیر ملکی تارکینِ وطن کنیری کے جزیروں پر پہنچتے ہیں جہاں سے انہیں یورپ میں داخل ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں موریطانیہ:’ کشتی پیر کو پہنچےگی‘11 February, 2007 | آس پاس موریطانیہ:تارکینِ وطن کو اجازت10 February, 2007 | آس پاس پھنسے پاکستانیوں کیلیے امداد06 February, 2007 | آس پاس سینکڑوں پاکستانی تارکین پھنس گئے05 February, 2007 | آس پاس تارکین وطن سے فائدہ نہیں: رپورٹ03 January, 2007 | آس پاس پاکستانی، بھارتیوں کا ہسپانیہ پر ہلہ 27 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||