برطانیہ: پانچ پر دہشتگردی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں حکام نے گزشتہ ہفتے برمنگھم سے ایک مسلمان برطانوی فوجی کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنانے کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے نو میں سے پانچ افراد پر دہشتگردی کا الزام لگایا ہے۔ ان افراد کو جمعہ کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پولیس نے تین افراد کو رہا کر دیا ہے جبکہ ایک سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ان نو افراد کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پکڑا گیا تھا۔ برطانیہ میں سن دو ہزار میں نافذ کیے جانے والے اس قانون کے تحت اب تک دو ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے چالیس سے بھی کم کو سزا دی گئی ہے۔ پولیس نے یہ کہہ کر ان نو افراد کو حراست میں لیا تھا کہ یہ لوگ چھٹیوں واپس آنے والے ایک مسلمان برطانوی فوجی کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں مکتب نامی دکان پر کام کرنے والے ابو بکر بھی شامل تھے جنہیں جمعرات کو رہا کر دیا گیا تھا۔ ابو بکر نے رہا ہونے کے بعد کہا تھا کہ برطانیہ مسلمانوں کے لیے پولیس سٹیٹ بن چکی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اس بیان کو صریحاً غلط قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں برطانیہ معاشرے میں انضمام، مگر کہاں تک01 December, 2006 | آس پاس برطانیہ:دہشتگردی کا شبہہ، نو گرفتار 31 January, 2007 | آس پاس گرفتاریوں کے بعد برمنگھم کی سڑکوں پر01 February, 2007 | آس پاس برطانوی فوج میں مسلمانوں کی حالت01 February, 2007 | آس پاس طیارہ سازش: دو مشتبہ افراد کی رہائی24 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||