 | | | عبدالعزیز الحکیم کو امریکہ اور ایران کا قریبی سمجھا جاتا ہے |
عراق کے بااثر شیعہ سیاستدان عبدالعزیز الحکیم نے عراق میں امریکی فوجیوں کے ذریعے ایرانیوں کی گرفتاری کو عراق کے اقتداراعلیٰ پر ایک حملہ قرار دیا ہے۔ حال ہی میں عراق میں ایرانی قونصلیٹ پر ایک کارروائی کرکے امریکی فوج نے کئی ایرانیوں کو گرفتار کیا تھا۔ الحکیم کے گھر پر بھی کارروائی کرکے امریکی فوج نے کچھ ایرانیوں کو گرفتار کیا تھا۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں عبدالعزیز الحکیم نے کہا کہ امریکی کارروائی ’غلط‘ تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق الحکیم کابیان اہم ہے کیوں کہ انہیں امریکی صدر جارج بش کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن عبدالعزیز الحکیم ایران کے بھی قریبی سمجھے جاتے ہیں کیوں کہ وہاں وہ کئی برسوں تک سیاسی پناہ میں رہ رہے تھے۔ گزشتہ سال کے آخر میں امریکی فوجیوں نے الحکیم کے گھر پر ایک کارروائی کی تھی اور دو ایرانی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا تھا۔ انہیں گزشتہ ہفتے رہا کردیا گیا۔ لیکن پانچ ایرانی اہلکار ابھی بھی امریکی قبضے میں ہیں جنہیں ایرانی قونصلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد سفارتکار ہیں اور انہیں فوری طور پر رہا کردیا جانا چاہیے۔ بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں عبدالزیز الحکیم نے کہا کہ عراقی حکومت امریکہ، شام اور ایران کے درمیان ڈائیلاگ کرانے کی کوشش کررہی ہے۔ الحکیم عراق میں سپریم کونسل فار اسلامِک ریولوشن کے رہنما ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے عراق کے لیے برے نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ شیعہ سیاستدان نے کہا کہ ایرانیوں کو پکڑنے کے لیے امریکی فوج کی کارروائی ’عراق کے اقتداراعلیٰ پر حملے کی طرح‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔‘ اتوار کو عراق کے وزیر خارجہ ہوشیا زیباری نے کہا کہ عراق کو ایران کے ساتھ مثبت تعلقات کی ضرورت ہے۔ ’ہم اس زمینی حقیقت کو نہیں بدل سکتے کہ ایران ہمارا ہمسایہ ہے۔۔۔ہم امریکہ کی حکمت عملی، پالیسیوں اور نقطۂ نظر کی قدر کرتے ہیں کیوں کہ وہ عراق کا اہم اتحادی ہے لیکن عراقی حکومت کے اپنے بھی قومی مفاد ہیں۔‘
|