’صومالیہ پرحملے سے کشیدگی بڑھے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے صومالیہ پر امریکی فضائی حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے جنوبی صومالیہ میں القاعدہ کے مبینہ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں فضائی حملے کی تصدیق کے بعد اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس طرح کے حملوں سے گشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل بدھ کے روز صومالیہ میں افریقی یونین کی امن فوج کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔ امریکہ حکام نےحملے جنوبی صومالیہ میں القاعدہ کے خلاف کارروائی کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ امریکہ طیاروں اے سی 130 نے صومالیہ میں القاعدہ کےایک مبینہ ’خفیہ ٹھکانے‘ پر کم از کم دو فضائی حملے کیے ۔ صومالیہ میں مزید فضائی حملوں کے اطلاعات ہیں لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملے صومالیہ کی ایئرفورس نے کیے ہیں یا امریکہ فوج نے۔ ادھر اسلامی ملیشیا، یونین اسلامی کورٹس کی دارالحکومت موگادیشو سے پسائی کے بعد پہلی مرتبہ اس عمارت پر راکٹ گرینیڈوں سے حملہ کیا گیا ہے جو ایتھوپیا کی فوج کے زیر استعمال ہے۔ صومالیہ کی عبوری حکومت کو ایتھوپیا کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ ایتھوپیا کی فوجی مدد سے واپس موگادیشو میں پہنچ پائی ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے مصدقہ اطلاعات کے بعد صومالیہ میں حملہ کیا ہے اور ان کا نشانہ القاعدہ کی قیادت تھی۔ صومالیہ کے عبوری صدر عبدالحی یوسف احمد نے امریکی حملے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کے خلاف برسرپیکار لوگوں کے خلاف کارروائی کر سکے۔ اطلاعات کے مطابق پہلے ان ٹھکانوں کی فضائی نگرانی کی گئی اور پھر ان پرگن شپ کے ذریعے جبوتی کے قریب واقع امریکی اڈے سے حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ ائر فورس اے سی 130 کے ذریعے کیا گیا جس پر کافی تعداد میں ہتھیار نصب ہوتے ہیں اور یہ اندھیرے میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ صومالی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی حملے میں کم از کم انیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ایک مقامی شخص محمود برالی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا چار سالہ بیٹا امریکی حملے میں مارا گیا ہے۔ امریکہ کہتا آیا ہے کہ صومالیہ کے اسلامی شدت پسندوں نے القاعدہ کے ان افراد کو بھی پناہ دی تھی جو 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ ان حملوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔امریکہ اسی گروہ پر 2002 میں کینیا میں اسرائیلی ہوٹل پر حملے کی ذمہ دار عائد کرتا ہے جس میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ عینی شاہدین نے بی بی سی صومالی سروس کو بتایا کہ منگل کو بمباری کے دوران کینیا کی سرحد اور افماڈو کےگاؤں کے درمیانی علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ افماڈو کا علاقہ حملے کی جگہ راس قمبونی سے کوئی دو سو پچاس کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔ |
اسی بارے میں صومالیہ: تین ماہ کے لیے مارشل لاء29 December, 2006 | آس پاس ایتھوپیا ،صومالیہ جنگ میں شدت25 December, 2006 | آس پاس صومالیہ: کون کس کی حمایت کرتا ہے؟04 January, 2007 | آس پاس صومالیہ:’امن فوج کی فوری ضرورت‘05 January, 2007 | آس پاس صومالیہ کے شہر پر ایتھوپیا کا قبضہ 23 July, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں جاری لڑائی بند کریں‘23 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||