بغداد میں جھڑپیں، پچاس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے وسط میں امریکی اور عراقی فوجیوں اور سنّی مزاحمت کاروں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں اور عراقی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ حیفہ سٹریٹ کے علاقے میں اب تک پچاس شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ابراہیم شاکر کے مطابق اس کارروائی کا مقصد علاقے کو دہشتگردوں سے پاک کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران اکیس شدت پسندوں کوگرفتار بھی کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حیفہ کی سڑکوں پر جاری جھڑپیں دریائے دجلہ کے مغربی کنارے کے اس علاقے میں تین روز قبل اس وقت شروع ہوئی تھیں جب عراقی پولیس کو شیخ معروف نامی قبرستان سے ستائیس لاشوں کی برآمدگی کے وقت فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فوج کوشش کر رہی ہے کہ وہ بغداد کے حیفہ نامی علاقے کا کنٹرول شدت پسندوں سے واپس حاصل کر لیں اور اس سلسلے میں امریکی اور عراقی فوجیوں کو فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم نوری المالکی نے اعلان کیا تھا کہ وہ شہر میں موجود ناجائز اسلحہ رکھنے والے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے اور اس سلسلے میں ایک نیا سکیورٹی منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ بغداد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر گریسٹ کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فوج کے حالیہ حملے اس منصوبے کا حصہ ہیں یا نہیں۔ امریکی ترجمان لیفٹینٹ کرنل سکاٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے’ اس علاقہ میں جاری پرتشدد کارروائیوں سے بغداد میں امن فوج کا آپریشن کئی مرتبہ متاثر ہوا ہے‘۔ | اسی بارے میں پھانسی داخلی معاملہ: المالکی06 January, 2007 | آس پاس بش کو نینسی پلوسی کی وارننگ07 January, 2007 | آس پاس بُش پیچھےنہیں ہٹیں گے08 January, 2007 | آس پاس عراق: خوف کے سائے میں زندگی19 April, 2006 | آس پاس بغداد: خندقیں کھودی جائیں گی 15 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||