بغداد: خندقیں کھودی جائیں گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی وزارتِ داخلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ حفاظتی انتظامات کرتے ہوئے بغداد کے گرد خندقیں کھودی جائیں گی اور پورے شہر کے گرد چیک پوسٹیں بھی بنائی جائیں گی۔ اس منصوبے کا اعلان دارالحکومت میں جاری تشدد کے مدِ نظر کیا گیا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر کی گلیوں سے کم از کم 49 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو بنانے کا مقصد شہر میں مزاحمت کاروں کی آمدورفت کو روکنا ہے۔ لیکن نامہ نگاروں کے مطابق شہر کے گرد خندقیں کھودنے میں ایک ماہ سے زائد عرصہ لگ سکتا ہے جیسا کہ بغداد کا قطر تقریبًا 80 کلومیٹر ہے۔ وزارتِ داخلہ کے بریگیڈئر عبدالکریم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹی سڑکوں کو بند کر دیا جائے گا اور شہر میں صرف اٹھائیس سڑکوں پر بنائے گئے چیک پوسٹوں سے گزر کر اندر آنا ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اہم مقامات پر ایسے آلات نصب کیے جائیں گے جن کے ذریعے ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا سراغ لگایا جا سکے گا۔ اور اس منصوبے پر تین ماہ کے اندر عمل شروع کیا جائے گا۔ جعمرات اور جمعہ کو دارالحکومت سے درجنوں لاشیں ملی ہیں اور حالیہ تین دنوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ تشدد میں ہلاک شدگان کے سروں میں گولیاں ماری گئی ہیں اور ان کے جسموں پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کو شاہد مذہبی انتہا پسندوں نے ہلاک کیا ہے۔اور باقی کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں تاوان وصول کرنے والے گروپوں نے نشانہ بنایا ہے۔ جمعے کو امریکی فوج کے افسران کا کہنا ہے کہ پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران ان مزاحمت کاروں نے حملے کر کے سات امریکی اہلکاروں کو ہلاک اور کئی درجنوں کو زخمی کر دیا ہے۔ ستمبر میں اب تک 25 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
عراق کی سیکیورٹی فورس اگلے چند دنوں میں بصرہ میں مزاحمت کاروں کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کرنے والی ہے۔ عراق کا یہ دوسرا بڑا شہر بغداد کی طرح تشدد سے اتنا زیادہ متاثر نہیں ہوا ہے۔لیکن مقامی سکیورٹی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ قاتل گروہوں اور مارٹر سے رہائشی علاقوں پر حملہ کرنے والوں کا مکمل خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ عراق میں بی بی سی کے نمائندے جیمز شا کا کہنا ہے کہ بصرہ میں رہائش پزیر بڑی تعداد شیع فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہاں پر سنی مزاحمت کاروں کی کاروائیاں بغداد کی نسبت کم ہیں۔ لیکن جو سنی اس شہر میں رہ رہے ہیں انہیں شیع قاتل گروہ نشانہ بنا رہے ہیں۔ شہر کی حفاظتی کمیٹی کے انچارج جنرل علی ہمادی کا کہنا ہے کہ اگلے چند مہینوں میں عراقی فوجیوں کی بڑی تعداد کو مزاحمت کاروں اور مجرم گروہوں کو جڑ سے ختم کرنے میں استعمال کیا جائے گا۔ اور ان کی اس کاروائی میں برطانوی فوج جو کہ شہر کے قریب موجود ہے ان کی مدد کرے گی۔ | اسی بارے میں بغداد میں دھماکے، پینسٹھ ہلاک17 September, 2004 | صفحۂ اول عراق: اٹھارہ نیشنل گارڈ ہلاک02 January, 2005 | صفحۂ اول بغداد: قبر سے چودہ لاشیں برآمد06 May, 2005 | صفحۂ اول تشدد کے درمیان کابینہ پر اتفاق08 May, 2005 | صفحۂ اول حفاظتی انتظامات سخت، حملے جاری 29 May, 2005 | صفحۂ اول امریکی فوجیوں پر مارپیٹ کا الزام16 July, 2005 | صفحۂ اول عراق، رائٹرز کا ایک اہلکار ہلاک29 August, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||