’لاپتہ طیارے کا ملبہ نہیں ملا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا میں ٹرانسپورٹ کے وزیر نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ جس میں کہا گیا تھا کہ پیر کو پرواز کے دوران لاپتہ ہونے والے طیارے کا ملبہ مل گیا ہے۔ وزیر ہاتہ رادجاسا کا کہنا تھا کہ لاپتہ ہونے والے طیارے کے بارے میں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا ہے اور اس کے ملبے کے بارے میں اطلاعات مقامی دیہاتیوں کی جانب سے افواہوں پر مشتمل تھیں جو کہ درست نہیں ہیں۔ اس سے قبل امدادی ٹیم اور ائیر لائن کے سربراہان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امدای ٹیموں نے طیارے کے ملبے سے نوے افراد کی لاشیں نکال لی ہیں۔ ہاتہ رادجاسا نے مقامی ریڈیو کو بتایا ہے کہ سرچ ٹیمیں ابھی تک سترہ سال پرانے بوئنگ 400-737 کی تلاش کے کام میں مصروف ہیں۔ فضائی کمپنی ’ایڈم ایئر‘ کے لاپتہ ہونے والے طیارے بوئنگ 400 - 737 میں چھیانوے مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔ شہری ہوا بازی کے ذرائع کے مطابق طیارہ انڈونیشیا کے جزیرے جاوا سے سولاواسی کے شمال مشرقی ساحل کے لیے روانہ ہوا تھا۔ جہاز کا آخری بار پچیس دسمبر کو معائنہ کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق طیارے سے اس وقت رابطہ منقطع ہو گیا تھا جب وہ پینتیس ہزار فٹ کی بلندی پر سفر کر رہا تھا اور منزل مقصود سے ایک گھنٹہ کے فاصلے پر تھا۔ ایڈم ایئر ایک نجی کمپنی کی ملکیت ہے جس نے دو ہزار تین میں پروازیں شروع کی تھیں۔ ایڈم ایئر کا شمار ان کم سے کم ایک درجن ستے کرائے والی فضائی کمپنیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سن انیس سو ننانوے میں ہوائی صنعت کی ڈی ریگولیشن کے بعد کاروبار شروع کیا تھا۔ گزشتہ دنوں انڈونیشیا میں خراب موسمی حالات کے باعث ایک مسافر بردار بحری جہاز ڈوب گیا تھا۔ | اسی بارے میں انڈونیشیا:طیارے کا ملبہ مِل گیا02 January, 2007 | آس پاس انڈونیشیا: لاپتہ طیارے کی تلاش01 January, 2007 | آس پاس انڈونیشیا: 400 افراد ابھی تک لاپتہ01 January, 2007 | آس پاس انڈونیشیا: سینکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ30 December, 2006 | آس پاس انڈونیشیا: 151 لوگ بچا لیے گئے31 December, 2006 | آس پاس امدادی کارروائیوں میں مشکلات29 May, 2006 | آس پاس انڈو نیشیا میں برڈ فلو سے 42ہلاک20 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||