انڈو نیشیا میں برڈ فلو سے 42ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا میں برڈ فلو کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے جس کے بعد انڈونیشیا برڈ فلو سے متاثرہ ہلاکتوں میں ویت نام کے برابر پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ٹیسٹ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ 44 سالہ آدمی میں جو کہ گزشتہ ہفتے ہلاک ہوا H5N1 نامی وائرس سے متاثر ہوا۔انڈونیشیا میں اِس سال دوسرے ملکوں سے زیادہ برڈ فلو سے اموات ہوئیں جبکہ ویت نام میں ویکسینیشن اور بیمار جانوروں کو ہلاک کرنے سے اب یہ کافی حد تک قابو میں ہے اور 2006 میں برڈ فلو کی وجہ سے کوئی موت سامنے نہیں آئ- انڈونیشیا کو متاثرہ علاقوں میں کوئی بھی قابلِ زکر قدم نہ اُٹھانے پر شدید تنقید کا سامنا کر رہی ہے۔ جبکہ اس سلسلے میں حکومت کا کہنا ہے کے رقم کی کمی کیوجہ سے وہ کسانوں کو معاوضہ نہین دے پا رہی اور اسی لئے حکومت نے نوے کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اگلے تین سالوں میں اِس پر قابو پاسکیں۔ انڈونیشیا میں برڈ فلو کا مسئلہ مئی میں سامنے آیا تھا جب ملک میں کئی اموات ہوئی تھیں جن کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کے آپس میں میل جول کیوجہ سے ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ ہلاکت اِس بیماری میں اضافے کا اشارہ نہیں کرتا مگر پھر بھی یہ خوف بدستور موجود ہے کہ یہ بیماری ایسی شکل لے سکتی ہے کہ اِنسانوں کے آپس کے میل جول سے یہ ایک دوسرے کو لگ جاۓ اور لاکھوں لوگوں کو خطرے کی زد میں مبتلا کر دے۔ 2003 سے اب تک 130 سے زیادہ لوگ اس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ اموات مشرقی ایشیا میں ہوئیں ہیں جبکہ یہ وائرس یورپ افریقہّ مغربی اور وسطی ایشیا میں بھی پھیل رہا ہے۔ | اسی بارے میں تھائی لینڈ میں برڈ فلو کی تصدیق 07 July, 2004 | آس پاس ترکی برڈ فلو، اقوام متحدہ کا انتباہ11 January, 2006 | آس پاس برڈ فلو: کب، کیسے اور کیوں20 February, 2006 | آس پاس افغانستان میں برڈ فلوکی تصدیق16 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||