فلسطین:ہلاکتوں میں تین گنا اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کے ایک اسرائیلی گروہ کا کہنا ہے کہ سنہ 2005 کے مقابلے میں اس برس اسرائیلی فوجیوں نے تین گنا زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے بیتاسلم نامی اس گروپ کا کہنا ہے کہ سنہ 2006 میں اسرائیلی سکیورٹی افواج نے چھ سو ساٹھ فلسطینیوں کو ہلاک کیا جن میں ایک سو اکتالیس بچے بھی شامل تھے۔ گروپ کی رپورٹ کے مطابق مارے جانے والوں میں سے کم از کم تین سو بائیس افراد ایسے تھے جو کسی قسم کی پرتشدد کارروائی میں ملوث نہیں تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا وہیں فلسطینیوں کے حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں کمی واقع ہوئی۔ سنہ 2006 میں ایسے حملوں میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد تئیس رہی جبکہ اس سے پچھلے سال یہ تعداد پچاس تھی۔ یاد رہے کہ اس سال اپنے ایک فوجی کے اغوا کے بعد سے اسرائیلی فوج نےغزہ میں دوبارہ زمینی آپریشن شروع کر دیا تھا اور جون سے اب تک اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں چار سو پانچ فلسطینی مارے گئے جن میں اٹھاسی بچے بھی شامل تھے اور مارے جانے والے ان افراد میں سے نصف عام شہری تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نومبر 2006 تک نو ہزار پچھہتر فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید تھے جن میں تین سو پنتالیس نابالغ قیدی بھی شامل ہیں۔ ان قیدیوں میں سے سات سو اڑتیس ایسے ہیں جنہیں بنا کسی الزام کے قید کیا گیا ہے اور ان پر کوئی مقدمہ بھی نہیں چلایا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’ہم حماس رہنماؤں کو قتل کردیں گے‘03 October, 2006 | آس پاس غزہ پراسرائیلی حملہ: مزید ہلاکتیں04 November, 2006 | آس پاس بیت حانون پر حملہ، 18 ہلاک08 November, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملے میں پانچ فلسطینی زخمی19 November, 2006 | آس پاس انسانی ڈھال نے حملہ روک دیا19 November, 2006 | آس پاس فلسطینی راکٹ سے اسرائیلی ہلاک15 November, 2006 | آس پاس اسرائیل پر غیر متوقع امریکی تنقید28 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||