فلسطینی فنڈز بحال کرنے کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے وزیراعظم ایہود اولمرت نے فلسطین کے صدر محمود عباس کے ساتھ کے ایک ملاقات کے بعد فلسطین کے منجمد شدہ فنڈز میں سے دس کروڑ ڈالر کی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی باقاعدہ ملاقات تھی۔ اس سال کے شروع میں فلسطین میں حماس کی حکومت قائم ہونے کے بعد اسرائیل نے فلسطین کے ٹیکس ریونیو کی مد میں ساٹھ کروڑ ڈالر منجمد کردیئے تھے۔ اب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے لئے اس میں سے دس کروڑ ڈالر رقم ریلیز کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ اس معاملے سے حماس کو باہر رکھنے کا طریقہ وضح کرلیا جائے۔ دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تین کمیٹیوں کی بحالی کا بھی اعلان کیا گیا ہے جو سیکورٹی اور سیزفائر کو برقرار رکھنے، اقتصادی معاملات سنبھالنے اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہیں۔ یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کیٹیہ ایڈلر کا کہنا ہے کہ کئی فلسطینی اور اسرائیلی ان اعلانات سے اتنے مطمئن نہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اعلان کرنا ایک بات ہے جبکہ اس پر عمل کرنا ایک دوسری۔ مسٹر اولمرت کی رہائش گاہ پر ہونے والی یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور فلسطینی ترجمان کے مطابق کئی امور پر دونوں رہنماؤں میں اتفاق تھا۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ فلسطین کی حماس حکومت سے مذاکرات نہیں کرے گا کیونکہ وہ اسرائیلی ریاست کے وجود کو تسلیم کرنے سےانکار کرتی ہے۔ اس سلسلے میں فلسطینی صدر مسٹر محمود کی طرف سے حماس کو راضی کرنے کی تمام کوششیں کارگر ثابت نہ ہونے کے بعد، انہوں نے پچھلے ہفتے قبل از وقت الیکشن کا اعلان کیا تھا جسے حماس نے حکومت کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں انتخابات جلد ہونگے: محمود عباس16 December, 2006 | آس پاس ’ھنیہ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی‘14 December, 2006 | آس پاس انتخابات کی تجویز پر حماس برھم09 December, 2006 | آس پاس ’خانہ جنگیوں‘ کا امکان26 November, 2006 | آس پاس جنگ بندی قائم، رہنما پُر امید26 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||