سری لنکا میں مغوی بچے رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تامل ٹائیگر باغیوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ان کے جونیئر ٹائیگروں نے ملک کے مشرقی علاقے سے کم از کم اکیس طلباء کو اغوا کرلیا تھا تاہم ان طلباء کو بعد میں رہا کر دیا گیا ہے۔ باغیوں کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکول سے بچوں کو اغوا کرکے جونیئر ٹائیگر جنگجوؤں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماضی میں تامل ٹائیگروں نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ بچوں کو اپنی فوج میں بھرتی کرنے کے لیے اغوا کرتے ہیں۔ اس سال سری لنکا میں جاری تشدد میں بہت اضافہ ہوا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس میں کم از کم تین ہزار چار سو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ باغیوں کے فوجی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جونیئر تامل جنگجو، جنھوں نے ان طلباء کو اغوا کیا ہے انہیں اس تحریک سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل سری لنکا کے فوجی ترجمان بریگیڈیر پراساد سمراسنگھی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اغوا ہونے والے بچوں میں زیادہ تعداد نوعمر بچیوں کی ہے جنہیں مشرقی امپارہ کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ بریگیڈیر پراساد سمراسنگھی کا کہنا ہے کہ تامل باغیوں نے ان اکیس طالبات اور تین طلباء کو پیر کی شام اس وقت اغوا کیا جب وہ اپنے امتحان کی تیاری میں مصروف تھے۔ ان کا کہنا ہے ’اس واقعے کی اطلاع مقامی پولیس کو کر دی گئی تھی۔ پولیس نے اس اغوا کے متعلق علاقے میں امن کے لیے کام کرنے والوں اور انسانی حقوق کے کمشن کو بھی خبر کر دی ہے‘۔ بریگیڈیر سمراسنگھی نے کہا ہے کہ ان بچوں کے اغوا کا مقصد ان کو زبردستی باغی فوج میں بھرتی کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں فوج اور باغیوں کی لڑائی میں شدت02 August, 2006 | آس پاس بحری جھڑپ: 70 باغی ہلاک25 September, 2006 | آس پاس سری لنکا: فوجی بس میں 90 ہلاک16 October, 2006 | آس پاس سری لنکا:مذاکرات میں پیش رفت نہیں29 October, 2006 | آس پاس کولمبو: تامل رکن پارلیمان ہلاک 10 November, 2006 | آس پاس سری لنکا میں خانہ جنگی جاری 10 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||