BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاپان کے نئے کم عمر وزیراعظم
شنزو ایبی
شنزو ایبی اپنے انتخاب کے بعد ارکان پارلیمان کا شریہ ادا کر رہے ہیں۔
جاپان کی پارلیمان نے شنزو ایبی کو ملک کا نیا وزیراعظم منتخب کر لیا ہے۔قدامت پسند شنزو ایبی نے ایوان زیریں کے 475 میں سے 339 ووٹ حاصل کیئے اور ایوان بالا میں بھی واضح اکثریت حاصل کی۔

ان کا بطور وزیراعظم منتخب ہونا اس لحاظ سے حیرت انگیز نہیں ہے کہ گزشتہ ماہ حکمران جاعت ’لبرل ڈیموکریٹک پارٹی‘ کے سربراہ منتخب ہونے کے بعد ان کا وزیراعظم بننا تقریباً یقینی ہو چکا تھا۔ باون سالہ شنزو ایبی جنگ عظیم دوئم کے بعد منتخب ہونے والے جاپان کے کم عمر ترین وزیر اعظم ہیں۔

شنزو ایبی کے پیش رو جونیچیرو کوزومی کی شہرت ایک رنگین مزاج مگر دو ٹوک بات کرنے والے شخص کی رہی ہے۔

ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس ہوگ کے مطابق امکانات ہیں کہ نو منتخب وزیراعظم اپنے پیشرو کے فری مارکیٹ کے حامیوں اور اپنے قدامت پسند ساتھیوں کو اہم عہدے دیں گے۔

اس بات کا بھی امکان ہے کہ شنزو ایبی ایک نئے وزیر کا تقرر بھی کریں گے جس کی ذمہ داری شمالی کوریا کے ساتھ ان جاپانیوں کے بارے میں بات چیت کرنا ہوگی جنہیں انیس سو ستر اور اسّی کی دہائیوں میں قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

شیزوایبی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی پالیسیوں میں امریکہ کے ساتھ مضبوط اتحاد، جاپان کے سخت گیر آئین میں ترمیم اور زیادہ پرزور خارجہ پالیسی شامل ہیں۔ لیکن ان کے ناقدین کا کہنا ہے ان کو سب سے پہلے جس چیلینج کا سامنا کرنا پڑے گا وہ شمالی کوریا اور چین کے ساتھ جاپان کے تعلقات بحال کرنا ہے۔ چین اور شمالی کوریا شنزو ایبی کے پیشرو کوزومی کے ایک جنگی مزار پر جانے سے سخت برھم ہوئے تھے۔

کوزومی پانچ سال سے زائد عرصہ تک وزیر اعظم رہے

شنزو ایبی کے بطور وزیر اعظم تقرری پر اپنے رد عمل میں شمالی کوریا نے کہا ہے کہ کوزومی کے مزار کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو خاصہ دھچکا پہنچا تھا۔ شمالی کوریا کے ترجمان نے کہا ’ میں جانتا ہوں کہ نئے وزیر اعظم ایک عقلمند شخص ہیں اور اگر وہ اس رویے سے پرہیز کرتے ہیں جس سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعقات خراب ہو سکتے ہیں تو مسائل حل کیئے جا سکتے ہیں۔‘

شنزو ایبی ساست میں قدرے نووارد ہیں اور وہ جاپان میں کسی بہت اعلیٰ عہدے کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے۔ اس سے قبل وہ کابینہ کے چیف سیکرٹری تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد