BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 September, 2005, 03:32 GMT 08:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاپان میں حکمران جماعت کی جیت
توقع ہے کہ جلد ہی وزیرِ اعظم کوئزومی اصلاحات کا پیکج پارلیمان میں پیش کریں گے
جاپان میں وزیرِ اعظم جونیچیرو کوئزومی کی حکمراں جماعت لبرل ڈیموکریٹ پارٹی نے بھاری اکثریت کے ساتھ عام انتخابات میں فتح حاصل کر لی ہے۔

چار سو اسی ارکان والی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں لبرل پارٹی کو دو سو چھیانوے نشستیں ملی ہیں اور یوں اس کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔

تاہم لبرل پارٹی نے کہا ہے کہ وہ ماضی کی طرح اپنی حلیف جماعت کے ساتھ مل کر حکومت کرے گی۔

مسٹر کوئزومی کی جماعت کی کامیابی کے باعث ٹوکیو سٹاک ایکسچینج میں زبرست تیزی آگئی۔

توقع ہے کہ جاپانی وزیرِ اعظم ایک مرتبہ پھر پارلیمان میں اقتصادی اصلاحات کا پیکج منظوری کے لیے پیش کریں گے جس کے تحت ڈاک کے نظام کو نجی شعبے میں دیا جائے گا۔

جاپان میں وقت سے قبل انتخابات ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ پارلیمان نے جہاں موجودہ وزیرِ اعظم کی جماعت کے پاس بہت زیادہ نشستیں نہیں تھیں، ان کا نج کاری کا منصوبہ مسترد کر دیا تھا۔

ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بھاری اکثریت ملنے کی وجہ سے لبرل ڈیموکریٹ پارٹی اب ملک کے کچھ اور مشکل معاملات سے بھی نمٹنے کی کوشش کرے گی جن میں پینشن کے حوالے سے اصلاحات بھی شامل ہیں۔

تاہم وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ ملکی آئیں کو ازسرِ نو مرتب کریں جس سے بین الاقوامی معاملات میں جاپان کے کردار میں اضافہ ہو۔

ان انتخابات میں کامیابی سے لبرل ڈیموکریٹ پارٹی اور اس کی حلیف جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔

جیت کے بعد وزیرِ اعظم کوئیزومی نے کہا وہ معاملہ فہمی اور حمایت پر قوم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

جاپان میں حزبِ اختلاف کی جماعت کے سربراہ کتسویا اوکاڈا نے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کی بڑی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان کو گزشتہ انتخابات میں ایک سو ستتر نشستیں ملی تھیں لیکن اس بات یہ تعداد کم ہو کر ایک سو تیرہ ہو گئی ہے۔

دو ہزار ایک میں وزیرِ اعظم بننے والے جونیچیرو کوئزومی نے کہا تھا کہ حالیہ انتخابات ان کے اصلاحات کے پروگرام کے حوالے سے ریفرنڈم کا درجہ رکھتے ہیں۔

دو ہزار تین کے انتخابات میں ووٹ ڈالے جانے کی شرح ساٹھ فیصد تھی لیکن توقع ہے کہ اس مرتبہ یہ شرح زیادہ ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد