خاتون بمبار کو سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن کی ایک عدالت نے ایک خاتون خودکش بمبار سمیت سات افراد کو عمان کے ہوٹلوں میں ہونے والی بمباری میں ان کے کردار کے لیے سزائے موت سنائی ہے۔ ساجدہ الریشاوی ایک عراقی خاتون ہیں جو بم دھماکے کی کوشش میں ناکام ہوگئی تھیں۔ گزشتہ سال عمان کے ہوٹلوں میں ہونے والی اس بمباری میں ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ عدالت نے دیگر جن چھ افراد کو سزائے موت سنائی ان کی سماعت ان کی غیرحاضری میں کی گئی تھی۔ پولیس نے ساجدہ الریشاوی کا وڈیو بیان بنایا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ سال نو نومبر کو کیے جانے والے حملے کے دوران ان کے کمر سے بندھی ہوئی بارود کی پٹی وقت پر پھٹ نہ سکی جس کی وجہ سے وہ بچ گئیں۔
نومبر کے ان حملوں کی ذمہ داری ’عراق میں القاعدہ‘ کے رہنما ابومصعب الزرقاوی نے قبول کی تھی جو اس سال امریکی فوج کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے وقت کہا کہ ساجدہ الریشاوی اور دیگر چھ افراد کو حملوں کے لیے ’بغیر کسی شک‘ کے ذمہ دار پایا گیا ہے۔ سماعت کے دوران ساجدہ الریشاوی کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ خود کو اڑانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھیں اور انہوں نے بارود کی اپنی پٹی کھولنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ایک فورینزِک ماہر نے عدالت سے کہا تھا کہ بارود کی بیلٹ اس لیے نہیں پھٹ سکی کیوں کہ وہ تکنیکی طور پر جام ہوگئی تھی۔ | اسی بارے میں اردن میں بم دھماکے ، 67 ہلاک09 November, 2005 | آس پاس اردن میں دھماکے: ویڈیو رپورٹ09 November, 2005 | آس پاس امریکی سفیر کے قاتلوں کو پھانسی11 March, 2006 | آس پاس اردن: الزرقاوی کی تعزیت پر قید06 August, 2006 | آس پاس عمان: 56 ہلاک، سوگ کا اعلان10 November, 2005 | آس پاس اردن کے حملے، القاعدہ کا دعویٰ10 November, 2005 | آس پاس اردن: بم حملے الزرقاوی نے کرائے13 November, 2005 | آس پاس ساجدہ کے بیان اور حملوں کی ویڈیو14 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||