اردن: الزرقاوی کی تعزیت پر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن میں ایک فوجی عدالت نے دو ارکان پارلیمان کو فرقہ واریت پھیلانے کے الزام میں قید کی سزا سنائی ہے۔ محمد ابو فارس اور علی ابو سکر نے عراق میں القاعدہ کے سابق سینئر ترین رہنما ابو معصب الزرقاوی کی موت پر اظہار افسوس کیا تھا۔ ابو مصعب الزرقاوی کو دو ماہ پہلے امریکی فوج نے فضائی حملے میں ہلاک کردیا تھا۔ ایک رکن پارلیمان کو دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ دوسرے کو اٹھارہ ماہ کی۔ ایک تیسرے رکن پارلیمان جعفر الہارونی کو مقدمہ سے بری کردیا گیا ہے۔ ان تینوں افراد نے الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد اردن میں مقیم ان کے ورثاء سے مل کر اظہار تعزیت کیا تھا جس پر کئی ممالک نے شدید اعتراض کیا تھا۔ القاعدہ کے رہنما کو جون میں بعقوبہ سے آٹھ کلومیٹر دور ایک ’سیف ہاؤس‘ پر فضائی حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ امریکی فوج کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت الزرقاوی اپنے ساتھیوں سے ملاقات میں مصروف تھے۔ اس حملے میں متعدد دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ ابو مصعب الزرقاوی کی ہلاکت کو امریکی صدر، برطانوی وزیر اعظم اور کئی دوسرے رہنماؤں نے ایک اچھی خبر قرار دیا تھا۔ الزرقاوی کے سر کی قیمت پچیس ملین امریکی ڈالر رکھی گئی تھی اور امریکہ کو مطلوب دہشتگردوں کی فہرست میں ان کا نام بہت اوپر تھا۔ |
اسی بارے میں اردن: بم حملے الزرقاوی نے کرائے13 November, 2005 | آس پاس الزرقاوی ہلاک ہوئے یا نہیں؟ 22 November, 2005 | آس پاس الزرقاوی غلطی سے رہا: عراقی وزیر16 December, 2005 | آس پاس الزرقاوی کو ہٹا دیا گیا: رپورٹ03 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||