شیراک: ایران پر پابندی نہ لگائیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدر ژاک شیراک نے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے کہا ہے کہ ایران پر پابندیاں لگانا اس کے جوہری توانائی سے پیدا ہوئے بحران کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے یورپ کے ریڈیو ون سے بات کرتے ہوئے ان ملکوں پر جو کہ ایران پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دے رہے ہیں زور دیا کہ وہ یہ دھمکیاں دینا ختم کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ کسی مسئلے کا بات چیت کے بغیر حل نکل سکتا ہے‘۔ امریکہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اگر ایران یورینیم کی افزودگی کے پروگرام پر کام ملتوی نہیں کرتا تو اس پر پابندیاں لگا دی جائیں۔ ژاک شیراک نے یہ بات اس وقت کی ہے جب پوری دنیا کے رہنماء اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کر رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری توانائی پروگرام صرف توانائی کی پیداوار کے حصول کے لیے ہے لیکن امریکہ اور کئی دیگر ملکوں نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ ایران توانائی کی آڑ میں جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔
امریکہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ایران پر پابندیاں لگا دی جائیں لیکن کئی یورپی ملک یہ پابندیاں لگانے سے کترا رہے ہیں اور ایران کو یورینیم کی افزودگی کا پروگرام روکنے کے بدلے میں کئی مراعات کی پیشکش کر رہے ہیں۔ بی بی بی کی پیرس میں موجود نمائندہ کیرولین واٹ کا کہنا ہے کہ لبنان کے حالیہ بحران کے دوران فرانس کی بین الااقوامی سفارت کاری بہت کامیاب رہی ہے اور اب ژاک شیراک دنیا کو ایران کے مسئلے پر اپنی قائدانہ رائے دینا چاہتے ہیں جیسا کہ ایران کے ساتھ ان کے گہرے تاریخی تعلقات بھی ہیں۔ فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ابھی تک ایران اور ان چھ ملکوں کے درمیان جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین شامل ہیں اس مسئلے پر مؤثر بات اور فائدہ مند بات چیت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں یاس پسند نہیں ہوں اور میرا خیال ہے کہ ایران ایک عظیم قوم ہے اور ہم ان کے ساتھ مل کر مسائل کا حل نکال سکتے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ پابندیاں مؤثر ثابت ہوئی ہوں لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان پابندیوں کو خارج کر دینا چاہیے بلکہ بہت زیادہ ضرورت میں انہیں لاگو بھی کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل اسی طرح نکالا جا سکتا ہے کہ دو حلیفوں کے درمیان کسی قسم کی شرائط رکھے بغیر بات چیت کا آغاز ہونا چاہیے اور فریقین کو اس مسئلے پر ایک دوسرے کو رعایت دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور ان چھ ملکوں کو مل کر بات چیت شروع کرنے کے لیے ایجنڈا بنانا چاہیے اور پھر اس بات چیت کے دوران ان چھ ملکوں کو ایران کو سیکیورٹی کونسل لے جانے کی دھمکی واپس لینی چاہیے اور ایران کو یورینمیم کی افزدگی بند کر دینی چاہیے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی یورپی رہنماء نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ ایران کا یہ وعدہ کہ وہ یورینیم کی افزردگی بند کر دے گا بات چیت شروع کرنے کی شرط نہیں ہو گی۔ لیکن اس مسئلے پر بحث بات چیت کے دوران کی جائے گی۔ اسی اثنا میں اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی کے سربراہ نے ایران اور ان چھ طاقتوں کو جلد از جلد بات چیت کے آغاز کے لیے زور دیا ہے۔ | اسی بارے میں ایران کی یورپی یونین کو تنبیہ11 September, 2005 | صفحۂ اول آئی اے ای اے کی قرارداد 24 September, 2005 | صفحۂ اول ایران کے خلاف قرارداد24 September, 2005 | صفحۂ اول ’تحقیق ہر صورت جاری رہےگی‘04 February, 2006 | صفحۂ اول اقوام متحدہ سے تعاون ختم: ایران04 February, 2006 | صفحۂ اول روس کی تجویز اب زیرغور نہیں:ایران12 March, 2006 | صفحۂ اول ’تجاویز پر غور کیلیے تیار ہیں‘04 June, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||