BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 September, 2006, 12:25 GMT 17:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ کے چھ کروڑ صحت مند چوہے

 چوہے
گذشتہ صدیوں میں پھیلنے والے طاعون کے باعث، چوہے آج بھی خوف اور دہشت کی علامت ہیں
مکھیاں اور مچھر شاید تیسری دنیا کا مقدر ہیں لیکن بڑھتی ہوئی گندگی کے باعث برطانیہ میں بھی ایک مسئلہ بڑا گمبھیر ہوتا جا رہا ہے، یعنی چُوہوں کی تعداد بے تحاشا بڑھ رہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس وقت برطانیہ میں کوئی چھ کروڑ چوہے موجود ہیں یعنی چوہوں کی آبادی اب انسانی آبادی کا مقابلہ کر رہی ہے۔

تیرہویں صدی سے اٹھارہویں صدی تک یورپ میں طاعون کی بیماری کئی بار پھیلی اور ابتدائی حملوں میں تو یورپ کی آدھی آبادی اس موذی وبا کی نذر ہوگئی تھی۔

یورپ میں طاعون پر اگرچہ انیسویں صدی کے شروع میں پوری طرح قابو پا لیا گیا تھا لیکن سینہ بہ سینہ چلنے والی طاعون کی دہشتناک کہانیوں نے یورپی لوگوں کے اجتماعی لا شعور میں ایک خوف پیدا کر رکھا ہے اور چوہوں سے عمومی نفرت اور خوف کے پس منظر میں بھی یہ امر کارفرما ہے کہ طاعون کی وبا سنمدری جہازوں میں موجود چوہوں کے باعث یورپی ساحلوں تک پہنچی تھی اور پھر چوہوں ہی کے ذریعے اندرون یورپ اس بیماری نے اپنے پر پُرزے پھیلائے تھے۔

چوہوں کی بڑہتی ہوئی تعداد
’’برطانوی سڑکوں پر پائے جانے والے کُوڑے کی مقدار سن دو ہزار کے مقابلے میں اب چار گنا ہوچکی ہے۔ اس کُوڑے میں تلے ہوئے چکن کی ادھ کھائی بوٹیاں، آلو کے چپس، فرائیڈ مچھلی کی کھال، سینڈوچ اور برگر کے ٹُکڑے اور فاسٹ فُوڈ کی ایسی ہی دیگر باقیات ہوتی ہیں جوکہ چوہوں کی مرغوب غذا ہیں‘‘

آج یورپ میں طاعون کا قلع قمع ہو چکا ہے لیکن تمام تر سائنسی ترقی اور مہلک ترین ہتھیاروں کی تیاری میں مہارت پیدا کر لینے کے باوجود یورپ میں، اور خاص طور پہ برطانیہ میں، چوہوں سے نجات کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برطانیہ میں چوہوں کی آبادی دُگنی ہوگئی ہے جسکا بڑا سبب سڑکوں پہ پڑے کوڑے کے وہ ڈھیر ہیں جن میں کھانے پینے کی بچی کھچی اشیاء بڑی مقدار میں ہوتی ہیں۔

کوڑے کا ڈبہ
برطانیہ کے بڑے بڑے شہروں کی سڑکوں پر شام کے وقت ایسے مناظر عام دکھائی دیتے ہیں

چند برس پہلے تک برطانیہ میں رات گئے تک شراب خانے اور ریستوران کُھلے رکھنے کی اجازت نہیں تھی اور لوگ سرِشام ہی کھانے پینے کے مشاغل سے فارغ ہوجاتے تھے۔ آجکل چونکہ خوردونوش کے بہت سے مراکز ساری رات کھلے رہتے ہیں اور لوگ رات بھر سڑکوں پر تفریحی مقاصد سے گھومتے رہتے ہیں اس لیئے سڑکوں کے کناے پڑے کوڑے دان جلد ہی بھر جاتے ہیں اور جس فاضِل کُوڑے کو اِن ڈبوں کا تنگ دامن سہار نہیں سکتا وہ فٹ پاتھ یا سڑک پر گرتا رہتا ہے۔

ایک اندزے کے مطابق برطانوی سڑکوں پر پائے جانے والے کُوڑے کی مقدار سن دو ہزار کے مقابلے میں اب چار گنا ہوچکی ہے۔

کسی کی جان بچ سکتی ہے
’’ عالمی ادارۂ خوراک نے توجہ دلائی ہے کہ اگر یہ سینڈوچ، برگر، فِش اور چپس کوڑے دانوں کی بجائے کسی طرح ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے بھوکے بچّوں تک پہنچ جائیں تو ہر برس دو کروڑ معصوم انسانی جانیں موت کے منہ میں جانے سے بچ سکتی ہیں‘‘

اس کُوڑے میں تلے ہوئے چکن کی ادھ کھائی بوٹیاں، آلو کے چپس، فرائیڈ مچھلی کی کھال، سینڈوچ اور برگر کے ٹُکڑے اور فاسٹ فُوڈ کی ایسی ہی دیگر باقیات ہوتی ہیں جوکہ چوہوں کی مرغوب غذا ہیں۔ چنانچہ آپ اگر سنیچر کی رات کو دیرگئے مرکزی لندن کے پُر رونق علاقوں میں گھوم رہے ہوں تو کُوڑے دانوں سے اُمڈ کر سڑکوں پہ بکھری اِن اشیائے خوردنی پر آپکو موٹے موٹے چوہے گشت کرتے نظر آئیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں بھُورے چوہے کا سائز اب ایک فُٹ کے قریب جا پہنچا ہے اور وزن بھی آدھے کِلو سے زیادہ ہوگیا ہے۔

ظاہر ہے کہ چوہوں کی اس خوشحالی کا سبب ٹنوں کے حساب سے کوڑے میں پھینک دی جانے والی خوراک ہے جو بالآخر چوہوں کی لذّتِ کام و دہن کا ذریعہ بنتی ہے۔

لذّتِ دہن کے نتیجے میں تو چوہوں کا سائز بڑھ رھا ہے اور لذتِ کام کا مظہر چوہوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ہے جو کہ اب برطانیہ کی اِنسانی آبادی کے برابر ہوچکی ہے۔

شہری انتظامیہ نے چوہے پکڑنے کےلیئے جو چوہے دان اور کڑکّیاں لگائی تھیں وہ صحت مند اور توانا چوہوں کی نئی نسل کے سامنے بیکار ہوچکی ہیں چنانچہ چوہے پکڑنے کےلیئے اب’ کمپیوٹری جال‘ استعمال کیا جا رہا ہے جو چوہے کو گرفتار کرتے ہی ایک ٹیکسٹ میسج بھی حکام کو روانہ کر دیتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر لوگ بچی کھچی خوراک کو بے احتیاطی سے سڑکوں پہ نہ پھینکیں تو اس سے چوہوں کی تعداد میں خاصی کمی آسکتی ہے اور عالمی ادارہء خوراک نے توجہ دلائی ہے کہ اگر یہ سینڈوچ، برگر، فِش اور چپس کوڑے دانوں کی بجائے کسی طرح ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے بھوکے بچّوں تک پہنچ جائیں تو ہر برس دو کروڑ معصوم انسانی جانیں موت کے منہ میں جانے سے بچ سکتی ہیں۔

اسی بارے میں
چوہے گانا گاتے ہیں
01 November, 2005 | نیٹ سائنس
طاقتور چوہوں کی ایجاد
24 August, 2004 | نیٹ سائنس
پالتو جانور: بیماری کاخطرہ
09 October, 2005 | نیٹ سائنس
مریخ پر چوہے بھی جائیں گے
09 February, 2004 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد