’عراق پر امریکی یلغار، خطے کے لیئے آفت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ امریکی سالاری میں عراق پر یلغار اور بعد کے حالات خطے کے لیے آفت ثابت ہوئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے دورے کے بعد ایک بریفنگ میں کوفی عنان نے کہا کہ عراق سے امریکی فوج کی واپسی اب بہت اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا: ’کچھ رہنما چاہتے ہیں کہ امریکی فوج عراق میں رہے اور یہاں استحکام لائے جبکہ کچھ دوسرے رہنماؤں چاہتے ہیں کہ امریکی فوج فوری طور پر عراق سے نکل جائے۔‘ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ کوفی عنان کے بیان سے متفق نہیں ہے خاص طور سے اسے عراق کے واقعات کے اس اظہار سے اتفاق نہیں جسے کوفی عنان نے بیان کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے یہ تسلیم کیا کہ عراق میں بد امنی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ لبنان اور فلسطین میں جمہوریت لانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ جمہوریت افغانستان اور عراق میں قدم جما رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل نے ایران سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے اور جوہری پروگرام پر جاری نزع کو حل کرے۔ کوفی عنان نے کہا: ’مشرقِ وسطیٰ میں جن رہنماؤں سے میں ملا ہوں ان میں سے بیشتر کا یہ خیال ہے کہ عراق پر امریکی حملہ اور بعد کے واقعات ان کے لیئے بہت بڑی آفت ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس صورتِ حال نے خطے میں عدم استحکام پیدا کیا ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہت سے لیڈر چاہتے ہیں کہ امریکہ عراق میں اس وقت تک رہے جبتک کہ سکیورٹی کی صورتِ حال ٹھیک نہیں ہو جاتی۔ ’اور ایسا چاہنے والوں کا کہنا ہے جنہوں نے یہ مسائل کھڑے کیئے ہیں وہ انہیں یونہی چھوڑ کر جا نہیں سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایرانی رہنماؤں کا کہا ہے کہ امریکی فوج کی عراق میں موجودگی خرابی کا اصل سبب ہے اور اسے عراق سے چلے جانا چاہیئے۔ ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کوفی عنان نے کہا کہ انہیں ایرانی رویے میں تبدیلی اور کھلا پن نظر آیا ہے اور وہ یورینیم کی افزودگی معطل کر سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکٹری جنرل نے کہا: ’ہم خطے میں ایک اور بحران کے متحمل نہیں ہو سکتے لہذا میں ایرانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں وضاحت کرکے بے یقینی کی فضا کو ختم کریں۔‘ | اسی بارے میں ’عراق کی صورت حال تشویشناک‘01 September, 2006 | آس پاس عراق:بم دھماکہ، دس ہلاک 33 زخمی 13 September, 2006 | آس پاس عراق تشدد: اعداد و شمار کے آئینے میں20 August, 2006 | آس پاس ’صدام کا القاعدہ سے تعلق نہیں‘09 September, 2006 | آس پاس پائیدارامن کےراستے کھلیں گے: عنان28 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ خلاف ورزی:عنان20 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||