نیو آرلینز: صدر بش کا دردِ سر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتیس اگست سن دو ہزار پانچ کا دن امریکہ کی تین جنوبی ریاستوں کے لیئے زبردست تباہی لے کر آیا۔ سمندر کی طوفانی ہوائیں دو سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی تیز رفتار سے آبادی کی طرف بڑھ رہی تھیں۔چند گھنٹوں کے اندر سیلابی ریلا سیاحتی شہر نیو آرلینز کے اندر داخل ہوا اور شہر کے اسی فیصد علاقے کو ڈبوگیا۔ایسے میں بے یارومددگار لاکھوں لوگ امداد کے لیئے پکارتے رہ گئے۔ صدر جارج بش کو اندازہ نہ ہو سکا کہ لوئیزیانا، مسیسپی اور الاباما ریاستوں میں آنے والی تباہی کس پیمانے کی تھی۔مرنے والوں کی تعداد ہزار سے اوپر جا رہی تھی۔لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے۔ بجلی اور پانی کا نظام ٹوٹ گیا۔پولیس غائب ہوگئی اور جگہ جگہ توڑ پھوڑ فائرنگ اور لوٹ مار کے واقعات بڑھنے لگے۔ایسے میں وفاقی حکومت کے سُست رویے پر عوامی تنقید بڑھتی رہی ۔ جارج بش اوپر اوپر سےجہاز سے تباہی دیکھنے آئے لیکن نیو آرلینز کے لوگوں کا حال چال جاننے کے لیئے وہ دو ہفتے بعد ان کے درمیان پہنچے۔ اس وقت سے لے کر اب تک جارج بش نے کترینا والے علاقوں کے کوئی بارہ چکر لگائے ہیں۔ آج وہ ایک با ر پھر یہاں پہنچے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ان کی سیاسی ضرورت ہے۔ نومبر میں کانگریس کے اہم الیکشن سے پہلے وہ اپنی ان ساری کوششوں کا پرچار کرنا چاہتے ہیں جو ان کے کہنے کے مطابق انہوں نے کترینا کے شکار لوگوں کے لیئے کی ہیں۔۔گزشتہ روز کترینا کی تباہی کے بڑے مرکز بلوکسی مسیسپی میں انہوں نے لوگوں کو یہی جتایا کہ ان کی حکومت نے بحالی کے کام کے لیئے ایک سو دس ارب ڈالر جتنی بڑی رقم مہیا کر رہی ہے۔ لیکن صدر بش کے اعلانات سے قطع نظر، یہاں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انکی بحالی کا کام ایک تو ناکافی تھا اور جو کام ہوا بہت سُست رفتاری سے ہوا۔ اگر خارجہ پالیسی میں عراق صدر بش کے لیئے بڑا دردِ سی ہے تو امریکہ کی داخلی سیاست میں کترینا ان کے لیئے ایک بڑا کلنک بن کر ابھرا ہے۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ نومبر کے الیکشن میں عراق اور کترینا کے سوال پر صدر بش کی پوری کوشش کے باوجود انکی ریپبلکن پارٹی کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں کترینا وڈیو: ’بش جانتے تھے‘02 March, 2006 | آس پاس کترینا: 40 ہزار رضا کار درکار11 September, 2005 | آس پاس کترینا کے بعد اب ریٹا کی باری20 September, 2005 | آس پاس کترینا انکوائری: ’وائٹ ہاؤس حائل‘25 January, 2006 | آس پاس قطرینہ: معاشرے کااصل چہرہ بےنقاب04 September, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||