کترینا وڈیو: ’بش جانتے تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے کہ جس میں حکام امریکی صدر جارج بش کو ملک میں آنے والے سمندری طوفان کترینا کے بارے میں بریفنگ دیتے نظر آتے ہیں۔ خبررساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس نے اس وڈیو کو جاری کیا ہے جو یہ دکھاتا ہے کہ اس طوفان سے قبل ہی صدر بش کواس کی شدت یا تباہی کے بارے میں خبردار کیا جارہا ہے۔ یہ ویڈیو بش انتظامیہ کے اس طوفان کے بارے میں لاعلمی کے حامل بیانات کی نفی کرتا ہے۔ تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اس طوفان کے بارے میں اطلاع مل جاتی تو شہر خالی کرایا جا سکتا تھا۔ اس ویڈیو کے ساتھ ایسوسی ایٹیڈ پریس یا اے پی نے کترینا سے متعلق سات دنوں تک دی جانے والی بریفنگ کے ٹرانسکرپٹ بھی حاصل کیے ہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو میں پریشان حکام واضح طور پر صدر بش کو اس طوفان کی تباہ کاریوں کے بارے میں آگاہ کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ طوفان نیو آرلینز کے حفاظتی پشتوں میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔ ماضی میں امریکی صدر یہ بیان دیتے رہے ہیں کہ کوئی شخص اس بات کی توقع نہیں کرسکتا تھا کہ یہ طوفان دراڑ ڈال بھی سکتا ہے دوسرے لفظوں میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے لیکن ویڈیو میں ظاہر ہے کہ ایمرجسنی ریسپانس کے ٹاپ آفیسر مائیکل براؤن کہہ رہے ہیں کہ طوفان انتہائی بدترین اور بہت بڑا ہو سکتا ہے۔ مائیکل براؤن نے بعد ازاں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ ابتدائی طورپر صدر بش نے اس طوفان کی تباہ کن ہونے سے لاعلمی ظاہر کی تھی تاہم بعد میں انہوں نے کترینا کو کسی حد تک اہمیت نہ دینے کے بارے میں اپنی غیر ذمہ داری کا اقرار کیا تھا۔ | اسی بارے میں ہری کین کترینہ نے تباہی مچادی 29 August, 2005 | صفحۂ اول کترینا: 40 ہزار رضا کار درکار11 September, 2005 | آس پاس کترینا کے بعد اب ریٹا کی باری20 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||