القاعدہ کے 20 مشتبہ ارکان ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک آپریشن میں القاعدہ کے بیس مشتبہ ارکان کو ہلاک کردیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے مشرقی افغانستان سے چار مشتبہ ارکان کو حراست میں لیا تھا۔ اتحادی افواج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ ہلاکتیں جنوبی افغانستان کے ارزگان صوبے میں ہوئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق چار افراد کی گرفتاریاں صوبہ خوست کے علاقے سل کالے کے قریب ایک آپریشن کے دوران کی گئیں۔ ان چار افراد کی شناخت مخفی رکھی گئی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران اتحادی افواج کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوا۔ سنیچر کو اتحادی افواج کے ترجمان تھامس کولِنز نے کہا کہ سنیچر کی صبح کیئے جانے والے اس آپریشن کے بعد اس علاقے میں سرگرم ’دہشت گرد‘ الرٹ پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا ’اس آپریشن کا مقصد القاعدہ کے اراکین کو گرفتار کرنا تھا جو افغان اور اتحادی فوجیوں کے خلاف مشرقی افغانستان میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔‘ اتحادی افواج نے یہ بھی کہا کہ اس آپریشن کے دوران ایک بریف کیس برآمد ہوا جس میں ’انتہاپسندی سے متعلق‘ دستاویزات تھیں۔ القاعدہ اور طالبان سے منسلک تشدد زیادہ تر پاکستان کی سرحد پر جنوبی اور مشرقی افغان علاقوں میں ہوتا رہا ہے۔ آئندہ چند مہینوں میں جنوبی افغانستان میں نیٹو کی افواج امریکیوں سے کمان لے لیں گی جس کے بعد اس علاقے میں اکیس ہزار فوجی تعینات ہوں گے۔ | اسی بارے میں گردیز خود کش حملہ: چار ہلاک16 July, 2006 | آس پاس قندھار:خود کش حملہ، فوجی ہلاک22 July, 2006 | آس پاس افغانستان: تشدد میں 22 ہلاک23 July, 2006 | آس پاس افغانستان: خشک سالی کا سامنا26 July, 2006 | آس پاس افغانستان: متعدد شدت پسند ہلاک26 July, 2006 | آس پاس افغانستان: فوجیوں سمیت 16 ہلاک 27 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||